ڈائلیسس کے مریض اب مشینی گردہ ساتھ رکھ سکیں گے

سنگاپور: گردوں کی ناکارگی اور مسلسل عارضے کے شکار افراد کےلیے اب ایک اچھی خبر ہے کہ پوری ڈائلیسس مشین اب ایک بیگ میں سماسکتی ہے جسے آپ اٹھاکر دفتر اور دیگر مقامات تک لے جاسکتے ہیں۔ اسے ’مشینی گردہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سنگاپورین اور امریکی ماہرین نے مشترکہ طور پر یہ انقلابی ایجاد کی ہے جسے ’آٹومیٹڈ ویئرایبل آرٹیفیشل کڈنی‘ یا ’’اویک‘‘ کا تکنیکی نام دیا گیا ہے۔ اس کا وزن صرف دو کلوگرام ہے اور اسے کندھے پر بیگ کی طرح لٹکا کر گھوما پھرا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب اسے رات کے وقت بستر کے سرہانے رکھ کر بھی سویا جاسکتا ہے۔ اسے ڈائلیسس مشین کا متبادل قرار دیا جاسکتا ہے۔

ایک تھراپی میں 6 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں اور خون میں سے زہریلے مادے، نمکیات باہر نکل جاتے ہیں۔ اسمارٹ گردے میں مریض کی حفاظت کےلیے ہنگامی الارم بھی نصب ہے جو خطرے کے وقت آواز خارج کرتا ہے اور مریض کے ڈاکٹر سے رابطہ بھی کرتا ہے۔

85 فیصد پاکستانی نوجوان جسمانی طور پر سست قرار

لیکن اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مریض پوری ڈائلیسس مشین اپنے ساتھ لے کر چل سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں مریض اپنے مرض کی شدت کے لحاظ سے ایک ہفتے میں کم ازکم ایک مرتبہ اپنے خون کا ڈائلیسس کراتے ہیں۔

اس عمل میں گردے ناکارہ ہونے سے بننے والے زہریلے مرکبات صاف کئے جاتے ہیں۔

ڈائلیسس عموماً اسپتالوں میں ہوتا ہے اور مریض گویا آزاد نہیں رہتا کیونکہ اسے بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے۔

اس کے برخلاف اویک کو ایک بیگ میں بند کرکے باہر بھی لے جایا جاسکتا ہے اور مشینی گردہ خودکار طریقے سے ڈائلیسس کا عمل انجام دیتا رہتا ہے۔