جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

بھارتی سیاستدان کی عوام کو مسلمانوں سے سبزی نہ خریدنے کی ہدایات

اسمبلی

بھارت کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاستی اسمبلی کے رکن نے عوام کو ہدایات کی ہیں کہ وہ مسلمانوں سے سبزی نہ خریدیں۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع دیوریا کے حلقے بہراج سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے ممبر لیجسلیٹو اسیمبلی (ایم ایل اے) سریش تیواری نے سرکاری حکام کے سامنے اپنے ضلع کے لوگوں کو واضح ہدایات کیں کہ وہ مسلمانوں سے کسی طرح کی سبزی نہ خریدیں۔

بی جے پی رکن اسمبلی کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے باعث ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت اور تشدد کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی نے بھی عوام کو اتحاد کرنے کی درخواست کی تھی۔

کورونا وائرس کی وبا کی آڑ میں گزشتہ 2 ماہ سے بھارت میں سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور بھارتی حکومت پر الزام ہے کہ کورونا کی آڑ میں مسلمانوں سے متعلق ذاتی ڈیٹا بھی جمع کر رہی ہے۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی کی جانب سے عوام کو مسلمانوں سے سبزیاں نہ خریدنے کی ہدایات سے کچھ دن قبل ہی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک سبزی فروش مسلمان کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

نئی دہلی میں سبزی فروش مسلمان کو اس وقت ایک شخص نے تشدد کا نشانہ بنایا جب تشدد کرنے والے نے سبزی خریدنے سے قبل سبزی فروش سے نام پوچھا تھا۔

عراقی شہر کرکوک میں انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر پر داعش کا خودکش حملہ،

سبزی خریدنے کے لیے آنے والے شخص کی جانب سے مسلمان سبزی فروش کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا تھا۔

نئی دہلی میں ہونے والے واقعے سے قبل ریاست جھارکھنڈ کے شہر جمشید پور بھی انتہاپسند ہندو جماعت وشوا ہندو پریشد کے ارکان نے شہر کے پھل اور سبزی فروشوں کے دکانوں اور ٹھیلوں کے باہر ان کے عقائد سے متعلق پوسٹرز آویزاں کردیے تھے، جس پر پولیس نے انتہاپسند جماعت کے کارکنان کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔

اور اتر پردیش اسیمبلی کے رکن سریش تیواری نے بھی ضلع دیوریا کے عوام کو ہدایات کی ہیں کہ وہ مسلمان سبزی فروشوں سے سبزی نہ خردیں۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق سریش تیواری کی وائرل ہونے والی ایک مختصر ویڈیو میں انہیں اپنے ضلع کے عوام کو ہدایات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو سے متعلق جب سریش تیواری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں عوام کو یہ ہدایات کی تھیں کہ مسلمانوں سے سبزی نہ خریدی جائے۔

سریش تیواری نے الزام عائد کیا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا ان دنوں میں مسلمان سبزیوں کو تھوک لگا کر فروخت کر رہے ہیں اور اس سے وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔

بی جے پی رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہوںنے سرکاری حکام کے سامنے عوام سے اپنی رائے کا اظہار کیا، ان کی ہدایات پر عمل کرنا نہ کرنا عوام کا اختیار ہے۔

دوسری جانب سریش تیواری کی جانب سے متنازع بیان دینے کے بعد بی جے پی کی ریاستی عہدیداروں نے ان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بیان کو ذاتی خواہش قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں