جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

دعا زہرا کے والد نے کیس واپس لے لیا، سپریم کورٹ کی متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت

متعلقہ فورم

کراچی : سپریم کورٹ نے کہا کہ نکاح تو آپ ختم نہیں کر سکتے ہیں، عدالت نے مہدی کاظمی کو متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دعا زہرا کی کم عمری سے متعلق کیس میں والد مہدی کاظمی کی سندھ ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔

دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی اپنے وکیل نبیل نذیر احمد کے ہمراہ پیش ہوئے۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس سجاد علی شاہ نے کی۔ جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر بھی لارجر بینچ میں شامل تھے۔

سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی شرقی، ایس ایچ او تھانہ الفلاح، تفتیشی افسر اے وی سی سی، ظہیر احمد کو کیس میں فریق بنایا گیا ہے۔

سماعت کے موقع پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو سول عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا، اگر آپ کو کوئی ریلیف لینا چاہتے ہیں۔ آپ قانون نکات کو سمجھیں۔ آپ گارڈین کا کیس سیشن عدالت میں دائر کر سکتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ہراسمنٹ اور اغواء کا کیس تو نہیں بنتا ہے۔ اگر سولہ سال سے کم عمر میں بھی شادی ہو تو نکاح رہتا ہے۔ نکاح تو آپ ختم نہیں کر سکتے ہیں، بھلے کم عمری میں نکاح ہو نکاح ختم نہیں ہوتا۔ سندھ کے قانون کے تحت بھی نکاح ختم نہیں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نیب قوانین میں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے : عمران خان

سپریم کورٹ نے مہدی کاظمی سے استفسار کیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں، جس پر والد نے جواب دیا کہ بھلے بچی ملاقات کے بعد انکار کرے، میرا مؤقف ہوگا کہ بیٹی میرے حوالے کریں۔ ہمارے ہاں ولی کے بغیر شادی نہیں ہوتی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا باتیں چل رہی ہیں۔ کہ آپ کا مسلک اور ان کا مسلک اور ہے؟ ملاقات کے بعد بھی بچی نہ مانی تو کیا کر لیں گے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے والد سے مکالمہ کیا کہ وہ بچی ہے گائے، بھینس، بکری تو نہیں، اگر مرضی سے شادی کرلی تو اب کیا کریں گے۔ آپ سے پورے دن کے لیے ملاقات کرا سکتے ہیں۔ ہم بچی سے زبردستی نہیں کر سکتے ہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں آپ کے جذبات کا احساس ہے، بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، اس کے بھی حقوق ہیں۔ صبح دس سے دو بجے تک مل لیں۔ آپ اور آپ کی کی بیگم بچی سے تسلی سے مل لیں، پوچھ لیں اس پر کوئی دباؤ ہے یا نہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر پھر بھی بچی آپ کے ساتھ نہ جانا چاہیے تو پھر آپ کیا کریں گےَ آپ کی بچی کہتی ہے کہ میں خوش ہوں پھر؟ عدالت نے کہا کہ آپ کی درخواست پر آج ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا پر سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا۔

سپریم کورٹ نے مہدی کاظمی کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے کہا کہ متعلقہ کیس ہمارے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے مناسب فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں