دعا منگی کے اغواء معاملہ : اہلخانہ کے شبے پر دو افراد زیر حراست

کراچی : دعا منگی کے اغواء کی تحقیقات جاری ہیں، پولیس نے اہلخانہ کے شبہ پر دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے، دونوں افراد مغویہ سے رابطے میں تھے۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس بخاری کمرشل ایریا سے نوجوان لڑکی دعا منگی کے اغوا اور دوست کو فائرنگ سے زخمی کرنے کا معاملے میں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جس گاڑی میں لڑکی کو اغوا کیا گیا اس میں پانچ ملزمان سوار تھے۔ 2 ملزمان گاڑی کی اگلی نشستوں اور 3 ملزمان عقبی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ گاڑی میں سوار پانچ ملزمان میں سے ایک ملزم نے چہرا چھپانے کے لیے ماسک پہنا ہوا تھا۔ شبہ ہے دعا ماسک پہنے ملزم کو جانتی تھی۔ پہچانے جانے کے ڈر کی وجہ سے ملزم نے ماسک پہنا۔ اغواء میں کرائے کے ملزمان استعمال کیے گئے۔

پولیس کو دوران تفیش معلوم ہوا کہ دعا کا مبینہ سابقہ منگیتر امریکہ میں مقیم ہے۔ ممکن ہے کہ مبینہ سابقہ منگیتر کراچی آیا ہوا ہو۔

یہ بھی پڑھیں : دعا منگی اغواء کیس پر پولیس کا ایف آئی اے سے مدد لینے کا فیصلہ

پولیس کے مطابق لڑکی کے اغواء میں ملوث ملزمان کی عمر 35 سے 45 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہیں۔ دعا کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔ دعا زخمی حارث سے مسلسل رابطے میں تھی۔

پولیس نے بتایا کہ دعا کے اغوا میں استعمال کی گئی گاڑی سے مشابہت رکھتی گاڑی 27 نومبر کو فیروز آباد سے چھینی گئی تھی، جس کا مقدمہ بھی درج ہے۔

دوسری طرف اے وی سی سی کے مطابق اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اطراف کی جیو فینسنگ کرائی گئی۔

حکام کے مطابق وقوعہ کے روز دعا اور حارث اپنے دوست حمزہ کی سالگرہ میں آئے تھے۔ حمزہ کا بیان بھی قلمبند کیا گیا ہے اس کے علاوہ سیکیورٹی گارڈ، ہوٹل کے ملازم اور رکشہ ڈرائیور کا بیان بھی لیا جاچکا ہے۔

واقعہ سے متعلق عینی شاہدین سمیت 22 افراد کے بیانات قلمبند کرلیے گئے ہیں۔ مغویہ دعا منگی کئی عرصے سے جائے واردات کے قریب قائم ریسٹورنٹ آتی رہی ہے۔ واردات والے دن دعا کی بہن بھی اپنے دوستوں کے ساتھ اسی ریسٹورنٹ پر موجود تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ دعا واردات سے چند دن قبل تک روزانہ کی بنیاد پر ریسٹورنٹ آرہی تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزمان کے پاس نائن ایم ایم پستول کے ساتھ تیز دھار آلہ بھی موجود تھا۔

جی نیوز نے واقعے کے عینی شاہد کو ڈھونڈ نکالا۔ عینی شاہد رکشا ڈرائیور وسیم نے ہی 15 مددگار پر پولیس کو اطلاع دی۔

رکشا ڈرائیور وسیم نے جی نیوز کو بتایا کہ فائرنگ کی آواز سنی تو دیگر سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ میں بھی اس جگہ بھاگا۔ جب پہنچا تو دیکھا کہ لڑکا زمین پر پڑا ہے اور گلے میں گولی لگی ہے۔ فائرنگ کے مقام پر بیگ بھی پڑا ہوا تھا۔            

ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس نے کال ڈیٹا کی مدد سے 2 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد پر اہلخانہ کو شبہ تھا۔

حراست میں لئے جانے والے افراد، آخری مرتبہ کالز میں شامل تھے۔