جی ٹی وی نیٹ ورک
Uncategorized

ٹویوٹا کمپنی کے سابقہ انجینیئروں کا کارنامہ ،دنیا کی سب سےچھوٹی اُڑن کار تیار

جاپان کے مشہورا خباراور ویب سائٹ اساہی شامبوں کے مطابق اس اُڑن کار کی فروخت کے لیے بکنگ 2023 سے شروع ہوجائے گی

اور 2026 سے اُڑن کار خریداروں تک آرڈر کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہوگا۔ اس وقت فلائٹ ٹیسٹ میں انسانوں کو بٹھا کریا پھر ریموٹ کنٹرول سے آزمائش کی جارہی ہے۔

اس کی تیاری میں کلیدی کردار ٹویوٹا کمپنی کے سابقہ انجینیئروں کا ہے جس نے اسے ڈیزائن کیا ہے۔

اپنی جسامت کی بنا پر اسے دنیا کی سب سے چھوٹی اڑن کار قرار دیا جاسکتا ہے۔ 2017 میں ٹویوٹا کمپنی نے تحقیق کے لیے اسکائی ڈرائیو کمپنی کو ساڑھے تین لاکھ ڈالر کی رقم بھی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ کے ڈارک موڈ فیچر کا فائدہ

اسکائی ڈرائیو نے مزید حقائق بتانے سے انکار کرتے ہوئے بعض تصاویر ایک ویڈیو ہی جاری کی ہے۔

کمپنی کے مطابق تمام آزمائشی مراحل انتہائی کامیابی سے جاری ہیں۔ کار کے اولین ماڈل کی اونچائی پانچ فٹ، لمبائی اور چوڑائی دونوں ہی 12 فٹ ہے۔

  21ویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور آنے والے عرصے میں ایسی ایسی حیرت انگیز چیزیں سامنے آنے والی ہیں کہ جن کے بارے میں بہت کم انسان سوچتے ہیں۔
ویسے بھی سائنس وٹیکنالوجی کا ہماری موجودہ زندگی میں بھی دخل کچھ زیادہ ہی ہے، سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ، ٹی وی الیکٹرانکس اشیائ، مشینوں سے تیار شدہ کھانے (فاسٹ وجنک فوڈز)، صحت، تعلیم غرض ہر فیلڈ میں سائنس وٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ان کے بغیر انسان نامکمل ہے۔
 ہمارے ہاں نوجوان سوائے سوشل میڈیا پر ویڈیوگیمز اور چیٹنگ میں ہی اپنا قیمتی وقت صرف کردیتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ روزبروز نئی نئی ایجادات کررہے ہیں۔

اسکائی ڈرائیو کے مطابق گنجان شہروں مثلاً ٹوکیو اور نیویارک کے لیے یہ ایک بہترین سواری ہوگی اور اسے لوگوں کی مدد اور حادثات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہوا میں اس کی رفتار 62 میل فی گھنٹہ ہوگی اور زمین سے قربت پر یہ رفتار بڑھ کر 93 میل فی گھنٹہ ہوجاتی ہے۔

:

متعلقہ خبریں