جی ٹی وی نیٹ ورک
صحت

کورونا وائرس ویکسین کی ابتدائی آزمائش کے حوصلہ افزاء نتائج

آکسفورڈ

لندن : آکسفورڈ یونیورسٹی نے کورونا وائرس ویکسین کی ابتدائی آزمائش میں حوصلہ افزاء نتائج حاصل کرلیئے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کورونا وائرس ویکسین کی آزمائش کا تجربہ بظاہر محفوظ رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے ٹرائل میں ایک ہزار 77 افراد نے حصہ لیا، جس میں دیکھا گیا کہ ویکسین نے مدافعتی نظام کو اینٹی باڈیز بنانے کے لیئے تیار کیا اور سفید خون کے خلیوں کو وائرس سے لڑنے کی تربیت دی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطالعے کی شریک مصنف، پروفیسر سارہ گلبرٹ نے ان نتائج کو حوصلہ افزاء قرار دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا ریسرچ ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اب تک ہم حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، اس سلسلے میں مزید ٹرائل کرنا ضروری ہے، مگر یہ درست راستے کی جانب اہم قدم ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے پہلے ہی دوائی کی ایک کروڑ خوراکیں آرڈر کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کورونا وائرس کی مؤثر ویکسینز کی جلد تیاری کی امید بڑھ گئی

جریدے لانسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اس ویکسین نے 18 سے 55 سال کی عمر کے لوگوں میں دوہری مدافعتی ردعمل پیدا کیا ہے، یہ ٹیکے لگانے کے 14 دن کے اندر ٹی سیل ردعمل اور 28 دن کے بعد اینٹی باڈی کے ردعمل کو اکساتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ان ٹی سیل سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ خلیات کتنا عرصے کارآمد رہیں گے، یہ بھی واضح نہیں کہ یہ ویکسین کورونا کی بیماری سے روکتی ہے یا پھر کورونا کی علامات کو کم کرسکتی ہے۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ اس ویکسین سے معمولی سائیڈ ایفیکٹ مرتب ہوتے ہیں، تاہم اسے پیراسیٹامول لے کر بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کرنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ ویکسین کو مختلف عمر و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد پر آزمانے کی بھی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں