جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

یورپی یونین اور امریکا نے بھارتی شہریت قوانین کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف قرار دے دیا

بھارتی

مودی سرکار کے شہریت قانون نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کردیا ہے۔ یورپی یونین اور امریکا نے شہریت قوانین کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

ہندو ہو تو ثابت کرو۔ بھارتی حکومت نے شہریت کے خواہشمند افراد کے لئے نئی شرط رکھ دی۔ ہندوتوا کی جنونی مودی سرکار نے بھارت کو پوری دنیا میں رسوا کردیا۔

یورپی یونین نے بھارت کے شہریت قانون کو انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ امریکا نے بھی شہریت قوانین میں مذہب کو شامل کرنے پر سخت اعتراض اٹھایا ہے۔

نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھارت میں بڑھتی شدت پسندی کو خطے کے امن کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہریت کے کالے قانون کے بھارت میں احتجاج جاری

نیویارک، واشنگٹن اور لاس اینجلس میں سکھوں اور مسلمانوں نے بھارتی قوانین کے خلاف مظاہرہ کیا۔ سکھوں نے خالصتان کے قیام کے لئے ریفرنڈم کا بھی اعلان کردیا ہے۔

ریفرنڈم مہم کے لئے دنیا بھر سے سکھوں کے لاکھوں دستخط کرائے گئے ہیں۔ بھارت کے عیسائی گروپوں کی جانب سے بھی مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔

کرناٹک اور اڑیسہ میں عیسائی خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور زبردستی واپسی کے نام پر اغوا کئے جانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں