جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سب کو پتہ ہے سندھ کو جب وفاق سے پیسہ ملتا تھا تو وہ کہاں خرچ ہوتا تھا : شہباز گل

سب کو پتہ

کراچی : شہباز گل کا کہنا ہے کہ بلاول زرداری کو ٹیکس سے نہیں سندھ کو ملنے والے پیسے سے مطلب تھا، سب کو پتہ ہے سندھ کو جب وفاق سے پیسہ ملتا تھا تو وہ کہاں خرچ ہوتا تھا۔

وزیراعظم کے سیاسی مشیر ڈاکٹر شہباز گل نے گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت نے دوران حکومت کیا۔ سندھ میں کراچی سے ہمیں عوام نے بھاری مینڈیٹ دیا گیا ہے، ہمارے منتخب نمائندے جواب دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بارہ نئے اسپتال بارہ یونیورسٹیاں بنائی جارہے ہیں۔ وفاق اور پنجاب کی ترقی ہم دکھاتے رہتے ہیں۔ آج سندھ پر بات کریں گے۔ بلاول زرداری نے الزام لگایا ہے کہ وفاق نے ٹیکس جمع نہیں کیا۔ وفاق کے ٹیکس کا بلاول زرداری کو فکر نہیں ہے۔ بلاول زرداری کو ٹیکس سے نہیں سندھ کو ملنے والے پیسے سے مطلب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 ترمیم کے بعد ٹیکس کے مطابق صوبوں کو حصہ ملنا ہوتا ہے۔ سندھ حکومت ٹیکس ہدف ہی عبور نہیں کرسکی۔ سب کو پتہ ہے سندھ کو جب وفاق سے پیسہ ملتا تھا تو وہ کہاں خرچ ہوتا تھا۔ کراچی سے آیان علی کے ذریعے یہ پیسہ منی لانڈرنگ ہوجاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : صوبے پر مسلسل معاشی حملے ہورہے ہیں، کب تک ظلم کو برداشت کریں گے : بلاول بھٹو

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پچھلے سال سندھ حکومت نے ٹیکس میں 128 ارب کا تخمینہ رکھا تھا، لیکن انہوں نے 105 ارب جمع کیا۔

سندھ حکومت ٹیکس ہدف ہی عبور نہیں کرسکی۔ پنجاب میں ٹیکس کا ہدف سے زیادہ جمع کیا گیا، کے پی میں بھی ٹیکس زیادہ جمع ہوا۔

شہباز گل نے کہا کہ سندھ کو نان ٹیکس روینیو 50 ارب روپے جمع کرنا تھا، جبکہ 12 ارب حاصل کیا گیا۔  سندھ حکومت ہمیشہ رونا روتی ہے کہ وفاق نے پیسہ نہیں دیا۔ بلاول کو گدھوں سے پیار ہے، سندھ میں اسکولوں اسپتالوں میں گدھے بندھے ہوئے ہیں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ سندھ میں 155 ارب کی ترقیاتی اسکیمیں دی گئی تھیں، جس میں سے صرف 100 ارب خرچ کئے گئے۔ تیس ارب روپے سندھ حکومت کے پاس کیش رقم موجود تھی۔ یہ کیش کیا بینک میں رکھا ہوا ہے؟ جہاں سے کمیشن ملتی ہے۔ اگر اتنا کیش موجود تھا تو عوام پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ کتے کی ویکسین کیوں نہیں خریدی؟ سندھ حکومت کو ایک ایک روپے کا حساب دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ہماری حکومت نے غریبوں کی بھرپور مدد کی۔ وفاق نے سات سو ارب سبسڈی دی، صوبے نے بارہ ارب دیئے۔ ٹرانسپورٹ کے لئے 539 ملین رکھے گئے خرچ 311 ملین کئے گئے۔ پنجاب میں پانچ ارب رکھے گئے، جس میں سے تین ارب خرچ کئے گئے۔ پنجاب میں میٹرو کی سبسڈی دس ارب ہے۔

متعلقہ خبریں