جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

روس اور یوکرین کے درمیان 10 غیر ملکی شہریوں سمیت 300 قیدیوں کا تبادلہ

10 غیر ملکی

ریاض : رہائی پانے والے قیدیوں میں 10 غیر ملکی شہری سمیت یوکرین کے کمانڈر بھی شامل ہیں، جنہوں نے ماریوپول کا دفاع کیا۔

سعودی عرب اور ترکی کی ثالثی رنگ لے آئی، جس پر کچھ عرصے سے کام جاری تھا۔ اس معاہدے کے تحت یوکرین اور روس نے تقریباً 300 قیدیوں کا غیر متوقع اور اچانک فیصلہ کرکے دنیا کو خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔

رہا ہونے والوں میں امریکہ، برطانیہ اور مراکش سمیت 10 غیر ملکی جنگی قیدی بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض کو یوکرین میں پکڑے جانے کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی اور انہیں کرائے کے فوجی ہونے کا الزام تھا۔

روس نے تقریباً 215 یوکرینی باشندوں کو بھی رہا کر دیا، جن میں وہ پانچ کمانڈر بھی شامل ہیں، جنہوں نے اس سال کے شروع میں جنوبی بندرگاہی شہر ماریوپول کے طویل یوکرائنی دفاع کی قیادت کی۔

بدلے میں، یوکرین نے 55 روسیوں اور ماسکو نواز یوکرینیوں اور وکٹر میدویدچوک کو واپس بھیج دیا، جو کہ ایک ممنوعہ روس نواز پارٹی کے رہنماء ہیں، جنہیں غداری کے الزامات کا سامنا تھا۔

یوکرینی صدر نے اس حوالے سے کہا کہ یہ واضح طور پر ہمارے ملک اور پورے معاشرے کی جیت ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 215 خاندان اپنے پیاروں کو محفوظ اور گھر پر دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردگان کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، سعودی عرب نے اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ثالثی کے بعد، روسی یوکرائنی بحران کے حوالے سے انسانی ہمدردی کے اقدامات کے سلسلے میں اپنے عزم کے تسلسل میں 10 غیر ملکیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : نیوکلیئر پلانٹ کے قریب روسی میزائل حملہ، یہ جوہری دہشت گردی ہے : یوکرین

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اس گروپ میں پانچ برطانوی شہری، دو امریکی، ایک کروشین، ایک مراکشی اور ایک سویڈش شہری شامل ہیں۔ قیدیوں کو لے جانے والا ایک طیارہ مملکت میں اترا اور سعودی حکام ان کی حفاظت کے لیے طریقہ کار کو آسان بنا رہے تھے، تاکہ وہ اپنے اپنے ممالک کو لوٹ جائیں۔

ایک ٹویٹ میں، امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر، جیک سلیوان نے قیدیوں کے تبادلے میں 2 امریکی شہریوں کو شامل کرنے پر یوکرین کا شکریہ ادا کیا۔ سلیوان نے ان کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے پر سعودی ولی عہد اور خلیجی ملک کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس نے ٹوئٹر پر برطانوی شہریوں کی رہائی کو ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے مہینوں کی غیر یقینی صورتحال اور مصائب کے بعد انتہائی خوش آئند خبر قرار دیا۔

ٹرس نے کہا کہ انہیں مشرقی یوکرین میں روسی حمایت یافتہ پراکسیوں نے روک رکھا تھا۔ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور سعودی عرب دونوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں آزاد کرانے میں مدد کی۔

سویڈن کی وزیر خارجہ این لنڈے نے ٹوئٹر پر کہا کہ ڈونیٹسک میں قید سویڈش شہری کا "اب تبادلہ کر دیا گیا ہے اور وہ خیریت سے ہے”۔ انہوں نے یوکرین اور سعودی عرب کا بھی شکریہ ادا کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے روس کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ریاض کے روایتی اتحادی واشنگٹن کی جانب سے شدید دباؤ کے باوجود، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

یوکرین اور روسی افواج نے تنازعہ کے آغاز سے لے کر اب تک سینکڑوں جنگجوؤں کو پکڑ رکھا ہے، جن میں مٹھی بھر قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں