جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

کڑے معاشی امتحان کا سامنا : نیوزی لینڈ کے نئے وزیر اعظم کرس ہپکنز نے حلف اٹھا لیا

امتحان کا

نیوزی لینڈ کے نئے وزیر اعظم کو نو ماہ سے بھی کم وقت میں مہنگائی پر قابو پانا ہوگا، انہیں ایک کڑے امتحان کا سامنا ہے۔

کرس ہپکنز نے بدھ کو نیوزی لینڈ کے 41ویں وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ 44 سالہ رہنماء  نے معیشت پر توجہ مرکوز کرنے کا وعدہ کیا ہے اور جسے انہوں نے مہنگائی کی وباء قرار دیا ہے۔

انہوں نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں اپنی قابلیت کے ذریعے ساکھ بنائی۔ ان کے پاس ایک سخت عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیئے نو ماہ سے بھی کم وقت ہوگا، رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی لیبر پارٹی قدامت پسند اپوزیشن سے پیچھے ہے۔

"چپی” کے نام سے مشہور، سابق کوویڈ وزیر جیسنڈا آرڈرن کے قریبی اتحادی ہیں، جنہوں نے گزشتہ ہفتے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر کے قوم کو حیران کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ

ہپکنز نے کسی دوسرے امیدوار کے سامنے نہ آنے پر آرڈرن کی جگہ لیبر لیڈر کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ انہیں اب اقتدار سنبھالنے پر ایک کڑے امتحان کا سامنا ہے۔ توقع ہے کہ ملک آئندہ سہ ماہی میں عام انتخابات سے قبل کساد بازاری کا شکار ہو جائے گا۔

2008 میں پہلی بار پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والے، ہپکنز ایک گھریلو نام بن گئے، جنہوں نے وبائی امراض کے بارے میں حکومت کے ردعمل کو آگے بڑھایا۔ سال کے آخر میں کوویڈ رسپانس منسٹر بننے سے پہلے انہیں جولائی 2020 میں وزیر صحت مقرر کیا گیا تھا۔

2021 کے پہلے نصف تک نیوزی لینڈ کے باشندوں کو وائرس سے پاک رکھنے کے لیے دنیا بھر میں ان کی پالیسی کو سراہا گیا، لیکن عوام زیرو ٹالرینس کی حکمت عملی سے تھک گئے۔ سخت لاک ڈاؤن پر تنقید میں اضافہ ہو گیا تھا۔

متعلقہ خبریں