جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

فیصل واؤڈا غلطی تسلیم کریں یا پھر امریکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفیکیٹ دیں : سپریم کورٹ

امریکی شہریت ترک

اسلام آباد : عدالت نے کل ساڑھے دس بجے فیصل واؤڈا کو طلب کرتے ہوئے امریکہ کی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفیکیٹ ساتھ لانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل سماعت پر سماعت ہوئی۔ فیصل واؤڈا کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق عدالت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کسی کو تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے مواد ہے، جس سے ثابت ہے کہ انہوں نے غلط بیان حلفی دیا۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس تو تاحیات نااہلی کی ڈکلئیریشن کا اختیار ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کیوں اپنے سامنے موجود شواہد سے تاحیات نااہل نہیں کر سکتی؟ فیصل واوڈا نے ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولے۔

یہ بھی پڑھیں : اسٹیٹ بینک کا بڑے کرنسی نوٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ فیصل واؤڈا اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63 (1) سی کے تحت نااہل ہو جائیں۔ بصورت دیگر عدالت 62 (1) ایف کے تحت کیس میں پیش رفت کرے گی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کے سامنے فیصل واؤڈا کی تاحیات نااہلی کے لیئے کافی مواد موجود ہے۔ انہیں اپنی غلطی تحریری طور پر تسلیم کرنی ہوگی۔ آڑیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے چند تقاضے ہیں، جو احتیاط سے ہونا چاہیے۔

عدالت نے دو آپشنز دے دیئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل واؤڈا دہری شہریت چھپانے کی غلطی تسلیم کریں یا پھر امریکہ کی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ پیش کریں۔ اگر شہریت چھپانے کی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو دیکھیں گے۔ نااہلی پانچ سال ہوسکتی ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل واؤڈا کو یہ دونوں آپشن میری طرف سے ہیں۔ نہیں معلوم کے میرے ساتھی ججز ان آپشن پر اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر کہیں کہ انہوں نے دوہری شہریت کی تاریخ بدلی۔

عدالت نے کل ساڑھے دس بجے فیصل واؤڈا کو طلب کرتے ہوئے امریکہ کی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفیکیٹ ساتھ لانے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ خبریں