جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کراچی میں پولیس کا جعلی مقابلہ، بارہویں جماعت کا طالب علم جاں بحق، ایس ایچ او معطل

بارہویں جماعت کا

کراچی : اورنگی ٹاؤن میں پولیس نے جعلی مقابلے میں بارہویں جماعت کا طالب علم کی جان لے لی، مقتول کے دوست کو بھی زخمی کر کے ملزم ظاہر کیا۔

کراچی پولیس کا ایک اور مقابلہ جعلی نکلا۔ اورنگی پولیس کا مقابلے میں ایک ملزم کو مارنے اور دوسرے کو زخمی کرنے کے دعوے کی پول کھل گئی۔

پولیس فائرنگ سے جاں بحق نوجوان کی شناخت ارسلان محسود کے نام سے ہوئی، اطلاع ملتے ہی لواحقین کی بڑی تعداد عباسی شہید اسپتال پہنچی اور مقابلے کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا۔ لواحقین کا کہنا تھا ارسلان محسود بارہویں جماعت کا طالب علم تھا، جو کوچنگ سینٹر سے دوست یاسر کے ہمراہ گھر جارہا تھا۔

پولیس فائرنگ سے زخمی نوجوان یاسر کو بھی پولیس ارسلان کا ساتھی ظاہر کیا، جبکہ واقع کی اطلاع پر ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب عباسی شہید اسپتال پہنچے، پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل نے مقتول کے والد کو پی ٹی آئی کا کارکن قرار دیتے ہوئے وزیراعلی سندھ کو جعلی مقابلے کا ذمہ دار قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : نیو کراچی میں موزے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا

اپوزیشن لیڈر نے واقعے پر افسوس و مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوان پولیس کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں۔ پولیس کے ہوتے ہوئے دہشتگردوں کی ضرورت نہیں۔

ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے ایس ایچ او اورنگی اعظم گوپانگ کو معطل کردیا ہے۔ مبینہ مقابلے میں اہلکار توحید اور پرائیویٹ ساتھی گرفتار ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق پرائیویٹ ساتھی موٹر سائیکل چلا رہا تھا، دونوں سادہ لباس میں ملبوس تھے۔ گرفتار اہلکار سے پرائیویٹ لائسنس شدہ ہتھیار بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ مقابلہ کسی ناکے پر نہیں ہوا۔ ڈی آئی جی کی جانب سے واقع کی شفاف تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں