جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پولیس کے تشدد کا شکار کسان اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئے

کسان

لاہور: دو روز کھلے آسمان تلے رہنے اور پولیس کے تشدد کا شکار ہونے والے کسان آخر کار اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئے۔ وزیر قانون کی زیر صدارت اجلاس میں کسان اتحاد نے دھرنا ختم کردیا۔

ہزاروں کسان اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے، لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کو ٹریفک کے لیےبند کیا اور دن بھر احتجاج کے بعد گزشتہ رات پولیس نے کسانوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا جس میں 200 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔

اگلی صبح پھر کسان اپنے مطالبات کے لیے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچے تو پولیس نے آنسو گیس اور واٹرکینن سے مظاہرین کو تشدد کرکے ہٹادیا۔

کسان اتحاد کی سربراہان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا مگر مال روڈ پہنچنے والے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا جس پر پپپلزپارٹی کی قیادت نے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ حکومت کسانوں سے مذاکرات کرے تشدد نہ کرے۔

کسانوں کے مطالبات ہیں کہ گندم کی امدادی قیمت 2000، گنے کی امدادی قیمت 300 روپے فی من مقرر کی جائے اور تمام کھادوں کی براہ راست قیمتیں کم کی جائیں۔ لینڈ ریکارڈ کی کرپشن پر قابو پایا جائے، مارکیٹ کمیٹیوں میں کسانوں کو نمائندگی دی جائے تمام صوبوں میں چیمبر آف ایگریکلچر کا قیام عمل میں لایا جائے۔

مار پیٹ اور پولیس کی پکڑ دھکڑ کے بعد آخر کسان اتحاد اورحکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، جس میں کسانوں کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ گرفتار افراد کو چھوڑ دیا جائے گا اور مطالبات پر کمیٹی بنائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں