گرے لسٹ یا بلیک لسٹ : پاکستان ایف اے ٹی ایف محاذ لڑنے کے لیے تیار

گرے لسٹ

پیرس : پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا بلیک لسٹ میں جائے گا۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف محاذ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کا معاملہ آج اور کل زیر غور آئے گا۔ پاکستان نے بلیک لسٹ سے بچنے کیلئے تمام اہداف میں پیش رفت کی ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس آج سے شروع ہوگا، اجلاس کے ایجنڈے میں پاکستان کے منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشتگردی کی مالی امداد کے خاتمے پر پاکستان کی کارکردگی کو جانچا جائے گا۔

پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کررہے ہیں، حماد اظہر ایف اے ٹی ایف اجلاس میں رپورٹ پیش کریں گے۔ پاکستان نے بلیک لسٹ سے بچنے کیلئے  تمام اہداف میں پیش رفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان سے 4 سفارشات پر مزید وضاحت طلب

پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیئے سینتیس ممالک سے کم از کم پندرہ ممالک کی حمایت درکار ہے، جس کے لیئے پاکستان نے گزشتہ دو ماہ سے سفارتی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

پاکستانی وفد میں اسٹیٹ بینک، نیکٹا، ایف آئی اے، ایف بی آر اور سیکوریٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کا حکام شامل ہیں، اجلاس میں پیش کرنے کیلئے پاکستان نے اپنی حتمی عملدرآمد رپورٹ تیار کر لی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا یہ اجلاس پاکستان کیلئے بہت اہم ہے اجلاس میں پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے گرے لسٹ سے نکلنے یا گرے لسٹ میں رہنے کا فیصلہ کیا جائیگا۔

ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اقدامات سے مطمئن ہوئی تو پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کرنے کی کارروائی کا آغاز ہوسکتا ہے، تاہم اگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستانی اقدامات کو ناکافی قرار دیا تو پھر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق چین، ملائشیاء اور ترکی حمایت کے باعث پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جبکہ پاکستان گرے لسٹ میں رہے گا۔

پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان باضابطہ مذاکرات آج اکتوبر سے شروع ہوں گے۔ اٹھارہ اکتوبر تک جاری رہنے والے اجلاس میں دنیا بھر کے دو سو سے زائد ممالک اور عالمی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔