جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ایف بی آر کا خیبر پختونخوا میں تمام کاروبار کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ

ایف بی آر تمام کاروبار کو

پشاور : ایف بی آر نے خیبر پختونخوا سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ صوبے میں تمام کاروبار کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

خیبر پختونخوا میں ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔ ایف بی آر نے صوبے میں تمام کاروبار کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

چھوٹے اور بڑے کاروبار کی رجسٹریشن کیلئے نئی حکمت عملی طے کی گئی ہے۔ غیر رجسٹرڈ کاروبار کی موقع پر رجسٹریشن کی جائے گی۔

گریڈ 17 اور 18 افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی میں تاجرنمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ غیر رجسٹرڈ تاجروں کی معلومات اور تاجروں کے ٹرن اوور کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ حکومت نے دولت مند افراد اور دیگر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ملک گیر ٹیکس دستاویزی مہم کے لیے جامع منصوبہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو 30 نومبر تک تفصیلی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، جس میں پیش کیے گئے اقدامات پر آئندہ 2 سال میں عملدرآمد کیا جائے گا۔

ایک سینئر ٹیکس افسر نے کہا کہ دستاویزی مہم سے کاروباروں، رئیل اسٹییٹ اور انڈسٹریز سے متعلق معلوم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اس حوالے سے مقررہ مدت میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

3 اکتوبر کو وزیراعظم نے اعلیٰ حکام سے اجلاس میں مقامی ٹیکسز میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس حصول کے صحیح اقدامات اٹھانے چاہیئیں اور ان پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے۔

ٹیکس دستاویزی مہم کے تحت مغربی ممالک کی طرح تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کے لیے قومی شناختی کارڈ کو سوشل سیکیورٹی نمبر کے تحت تمام مقاصد کے لیے اپنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے جون 2020 کی ڈیڈلائن طے کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں مشکلات کا سامنا

اجلاس میں غور کیا گیا تھا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور ڈیٹا مرتب کرنا تمام سرکاری اور نجی اداروں جیسا کہ مالیاتی اداروں اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ساتھ ہی اجلاس میں وزارت قانون و انصاف کواسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کے بعد ایف بی آر کے ساتھ مالیاتی ٹرانزیکشنز کی رئیل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ کو یقینی بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں ضروری ترامیم 31 دسمبر تک پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ 30 نومبر تک کمرشل بجلی اور گیس کنیکشنز کو فوری طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔

اجلاس میں ملک میں غیر منقولہ جائیدادوں کے سروے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، اس اقدام سے ایف بی آر کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں موجود دولت سے متعلق جاننے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے غیر منقولی جائیدادوں کے ملک گیر ڈیجیٹل سروے کی منظوری بھی دی، جس کی تکمیل کے لیے 30 جون 2021 کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔ موجودہ حکومت کے پہلے سال میں 7 لاکھ 83 ہزار 39 ٹیکس دہندگان نے ایمنسٹی سمیت مختلف اسکیمز کے تحت ایف بی آر میں ریٹرنز فائل کیے اور نئے فائلرز کی وجہ سے 2 ارب 58 کروڑ روپے ریونیو جمع کیا گیا۔

متعلقہ خبریں