جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

‘جون صاحب کے نثری شاہکار ، جو شاعری کی وجہ سے چھُپ گئے !

جون صاحب کے نثری شاہکار
آج جون ایلیاصاحب کا یوم ولادت ہے ، جون سے محبت کرنے والے آج خوشی کے ساتھ جون صاحب کی اداس شاعری کو شئیر بھی کررہے ہیں۔ جون صاحب کی وجہ شہرت ان کی شاعری ہے جو بیک وقت نوجوانوں ، بلکے ہر عمر کے لوگوں میں یکساں  مشہور ہیں ، بڑی عمر کے لوگ جون صاحب سے کتابوں کی شکل میں جڑے ہیں اور نوجوان نسل سوشل میڈیا کی شکل میں جون صاحب سے محبت کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔

 

جون صاحب کی وجہ شہرت ان کی شاعری بنی لیکن ان کی نثری تحریریں بھی اردو ادب کا وہ حصہ ہے جس پر بہت کم بات کی گئ ہے اور وہ ابھی تک اس طرح سامنے نہیں آپائی ہے جس طرح ان تحریروں کا حق بنتا تھا۔جون صاحب کی نثری تحریروں پر مبنی کتاب کا نام "فرنود” ہے جس میں جون صاحب کے انشائیے اور مضامین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔

 

بہت سی تحریریں آج سے 40، 50 سال پُرانی ہے مگر آج بھی اگر ان تحریروں کا پڑھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یہ باتیں آج بھی اسی تازگی کے ساتھ موجود ہے ۔ اسی طرح معاشرے اور سیاست سے متعلق انھوں نے اپنی تحریروں میں جو نقشہ کھینچا تھا وہ صرف نقشہ نہیں تھا اصلی تصویر تھی جو انھو ں نے اپنے الفاظوں سے بنائی تھی۔

 

جون صاحب کی کچھ تحریروں کو اس تحریر میں دوبارہ تحریر کرتے ہیں تاکہ آپ جب یہ تحریر پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو کہ جون صاحب نہ صرف شاعری میں جون صاحب تھے بلکہ نثر میں بھی جون صاحب تھے۔

 

اُن کی شاہکار تحریروں کے چند پیراگراف ملاحظہ فرمائیں :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پُرفساد نیتوں اور فتنہ انگیز نعروں نے ہمیں فضیحتوں اور ہلاکتوں کے سوا اور کیا دیا ؟ سوچنے کی صلاحیت باقی ہے تو سوچو، سمجھنے کی سکت رہی ہے تو سمجھو ۔ تمھاری سرگزشت دنیا کی سب سے زیادہ عبرتناک سرگزشتوں میں سے ایک ہے اور سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہ ہے کہ یہ سرگزشت تم نے تاریخ کے صفحات پر اپنے ہی خون اور اپنی ہی خوں چکاں انگلیوں سے رقم کی ہے۔

 

امید – عالمی ڈائجسٹ ، دسمبر 1971- کتاب : فرنود

………………………………………………………………………………………………………………………..

جمہورت کا مزاج بولنے کی سلیقہ شعاری اور سننے کی برُدباری سے عبارت ہے ۔جمہوریت ہر اس فرد کو لب کشائی کی دعوت دیتی ہے جو کچھ بھی کہنا چاہتا ہے۔جمہوریت کی فضا میں ہم ایک ایسی فضا کو قبول کرتے ہیں جس میں ہم سے کُھل کر اختلاف کیا جاسکے۔جو لوگ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں وہ گویا یہ چاہتے ہیں کہ معاملے دلیل سے طے ہوں نہ کے طاقت سے ۔ مخالف دلیلوں کو سُنا جائے اوردعووں پر نظر ثانی کی جائے۔

اس نظام کے زیر اثر ہم میں سب سے پہلے اس امکان کو قبول کرنے کی آمادگی پیدا ہونی چاہیےکہ صداقت شاید ہمارے ساتھ نہ ہو، دوسرے کے ساتھ ہو ۔جمہوریت ان لوگوں کے لئے یقیناً ایک نامناسب ترین نظام ہے جو اپنے قول کو قول فیصل سمجھتے ہیں اور دوسرے کی بات سننے کا کوئی حوصلہ نہیں رکھتے ۔

 

نئے سال کے حاشیے پر – عالمی ڈائجسٹ، جنوری 1970- کتاب: فرنود

………………………………………………………………………………………………………………………..

دوستی ،مروت ، خلوص ، محبت ، دیانت، اور شرافت یہ وہ اقدار ہیں جو ہمیشہ کچھ افراد کی حد تک با معنی رہی ہیں ورنہ یہ محض الفاظ ہیں جنھیں اس سماج کی منافقت نے اپنے ضمیر کے جرائم اور نیت کے مفاسد کو چھپانےکے لئے اپنے استعمال میں رکھا ہے ۔ اس سماج میں ہماری داہنی طرف بھی جھوٹ ہے اور بائیں طرف بھی، سامنے بھی اور پیچھے بھی ۔ جھوٹ ہی جھوٹ ہے جس کے سبب یہ جھلاہٹیں ہیں اور کھوٹ ہی کھوٹ ہیں جس کے باعث یہ جھنجھلاہٹیں ہیں ۔جھوٹ کے اس چو طرفہ ہجوم میں اگر تم اپنے سچ کو بچاسکوتو یہ بہت غنیمت ہے ۔ پر،اس سچ کے ساتھ بڑی اذیتیں ہیں ، ہجوم میں احساس تنہائی کی اذیتیں اور اذیتوں میں تنہائی کا احساس۔

 

ہم جس سماج میں رہتے ہیں – عالمی ڈائجسٹ ، مارچ 1970- کتاب : فرنود

………………………………………………………………………………………………………………………..

زمین پر انسان کا مقسوم کیا ہے ، آخرکار موت ؟ پر کیا اس سے پہلے ایک ایسی زندگی جس کو انسان نے خود ہی اپنےلئے ایک بے حاصل ابتلا اور ایک رسواکن مشقت بنالیا ہو۔کیا صرف ایک ایسی ورزش، جس سے جوڑ جوڑ دکھنے لگے۔فقط ایک ایسی آزمائش جو حُلیہ بگاڑ ڈالے؟ موت سے پہلے کتنی موتیں اور ہلاکت سے پہلے کتنی ہلاکتیں ہیں جنھیں انسان نے بڑی کدو کاوش کے بعد اپنے لئے خلق و ابداع کیا ہے۔

 

خیرِ شامل – عالمی ڈائجسٹ ، جون 1971 – کتاب : فرنود

…………………………………………………………………………………………………………………………

 

خود پروری ، خود پنداری اور زبردستی کے بہت سے مسلک ہیںاور بہت سے مشرب ہیں اور ان میں سے ہر مسلک اور ہر مشرب ہمارے معاشرے میں فروغ پارہا ہے۔جسم روندے جاتے ہیں ، روحیں کچلی جاتی ہیں ، عزت نفس کو لُوٹا جاتا ہے ، اور ان تمام باتوں کو اس طرح قبول کیا جاتا ہے کہ جیسے یہ سب کچھ معمول کےعین مطابق ہو۔ یہی نہیں کہ اب بُرائی کے خلاف احتجاج نہیں ہوتا بل کے بُرائی ایک کاروبار بن گئی ہے اور اس کاروبار کے فروغ کے لئے ہمیں بُرائی سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

 

انسان کا شیطان – عالمی ڈائجسٹ ، جولائی 1971 – کتاب : فرنود

…………………………………………………………………………………………………………………………

لو ایک سال اور ختم ہونے کو آیا ۔ گزرنے والے سال ہم نے تباہیوں کے بعد بڑی اُمیدوں کے ساتھ شروع کیا تھا۔ ان اُمیدوں نے ہمیں ہماری محرومیاں بھلادی تھیں۔ پر ہماری اُمیدوں کا مقسوم نااُمیدی ہی تھا، سو وہی ہوا جو ہوا ، انسان اس وقت جھنجلا اُٹھتا ہے اور جب بار بار وعدے کئے جائیں مگر پورے نہ کئے جائیں ، مگر جھونجل کس پر اُتاری جائے ؟ سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ اپنے اوپر جھونجل اُتاری جائے۔ ہم نفرتی ہیں ، ہم لعنتی ہیں، ہنسا جائے کہ ہم زمین اور زمان کاریش خند ہیں۔ خود بھی ہنسو اور دوسروں کو بھی ہنساؤ ، اور چاہے کچھ بھی ہو زندگی کو چبلے پن کے ساتھ گزارو کہ یہی سب سے اچھا گزارہ ہے۔ گھر میں آگ لگ رہی ہو تو سوچو کہ آتش بازی چُھوٹ رہی ہے کہ اس طور گزران کرنا ہی سب سے اچھی گزران ہے۔

 

زمان – عالمی ڈائجسٹ ، جنوری 1973 – کتاب : فرنود

………………………………………………………………………………………………………………………….

یہ پڑھیں  : جون کی برسی کیسے  ؟

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں