جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پینشن روکنے کا نوٹیفکیشن معطل

ڈی جی ایف آئی اے

اسلام آباد : ہائی کورٹ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے کی پینشن روکنے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی پینشن روکنے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے سابق ڈی جی ایف آئی اے کی پینشن روکنے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے اے جی پی آر سے دس روز میں رپورٹ طلب کرلی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اے جی پی آر کے نمائندے سے استفسار کیا کہ قانون بتائیں آپ کسی کی پینشن کیسے روک سکتے ہیں؟

نمائندہ اے جی پی آر نے کہا کہ 465 بی ون کے تحت ان کی پیشن روکی گئی ہے۔ بشیر میمن نے استعفی دیا تھا۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ 16 دسمبر 2019 کو ریٹائرمنٹ تھی، دو دسمبر 2019 کو استعفیٰ دیا۔

یہ بھی پڑھیں : سنتھیا رچی معاملہ : اسلام آباد ہائی کورٹ نے رحمان ملک کی کارروائی رکوانے کی درخواست نمٹادی

عدالت نے کہا کہ جب آپ نے بشیر میمن کی پیشن کے تمام کاغذات مکمل کر لیے تو کس نے کہا روک دیں۔ آج تک آپ نے کیا کبھی کسی اتنے سینئر افسر کی پیشن روکی ہے۔ استعفیٰ تو کوئی افسر بھی دے سکتا ہے اور وہ متعلقہ اتھارٹی نے منظور بھی کیا۔

عدالت نے اے جی پی آر کو بشیر میمن کی پینشن کا معاملہ دوبارہ دیکھنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جس قانون کا آپ حوالہ دے رہے اس کے تحت تو آپ پنشن روک نہیں سکتے۔ آپ کے ساتھ یہ کون ہے کیا یہ آپ کے آفس کے کرتے دھرتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کیوں ناں ان لوگوں کے خلاف کاروائی نہ کی جائے۔ یہ عدالت پنشنش روکنے کی نوٹیفکیشن معطل کرتی ہے۔ دس دنوں کے اندر کیس پر نظرثانی کرے اور عدالت کو جواب جمع کرائے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 10 دن تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں