ٹھنڈی تاثیر والے پھل ،گرمی سے بچنے کا بہترین حل

کراچی(ویب ڈیسک): انسان کے لئےضروری ہے کہ صحت مند ہوں تاکہ دنیا کے کام بھی احسن طریقے سے سرانجام دیں سکیں  اسی لئے ماہرین صحت نے کئی پھلوں کے بارے میں بتایا ہے جو نہانت مفید ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے آپ کو روزمرز کی بنیاد پر متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیے ۔ ٹھنڈی تاثیر والے پھل ،موسمِ گرما کے لیے بہترین ہیں، ہر موسم کی اپنی خصوصیات  اور موسمی کیفیات ہو تی ہیں ۔قدرت نے تمام پھلوں کو ہر موسم کے لحاظ سے بنایا ہے۔

تربوز

سرخ اور سبزرنگ کے پھل تربوز کی تاثیر انتہائی سرد ہے یہ جلدی ہضم ہوتا ہے اوراس کے بیج معدے میں موجود فاضل معدوں کو خارج کرتے ہیں یہ دماغی گرمی کو دور کرتا ہے ۔

لیکن یاد رہے کہ تربوز کھانے کے بعد پانی پینا مناسب نہیں،کھٹا اور گلا ہوا تربوز کھانے سے ہیضہ ہوسکتا ہےتربوز جب بھی کھائیں ٹھنڈا کھائیں اور خالی پیٹ کھائیں ،کھانا کھانے سے پہلے تربوز کھانا بہت فائدہ مند ہے۔

فالسہ

گرمیوں کی سوغات فالسے کی تاثیر بھی سرد تر ین ہوتی ہے یہ پیاس اور گرمی کو دور کرتا ہے اس لیے سحر اور افطار میں اس کا مشروب پینا نہایت مفید ہے یہ قوتِ ہاضمہ کو تیزکرتا ہے،بلغم کو خارج کرتا ہے۔

جن افراد میں خون کی کمی ہو وہ فالسہ استعما ل کریں کیونکہ فالسہ نیا خون کافی مقدار میں پیدا کرتا ہے، خیال رہے کہ سرد مزاج والوں کے لیےفالسہ نقصان دہ ہے ۔

پپیتا

پپیتے کی تاثیر بھی سرد ہوتی ہے یہ دل اور معدے کی سوزش ،جگر اور امراض دل کے لیے مفید ہے۔ جن کو دائمی قبض ہو وہ ہر روز استعمال کریں۔کم میٹھا ہونے کی وجہ سے شوگر والے بھی استعما ل کر سکتے ہیں ۔

آم

پھلوں کا بادشاہ آم اس کی تاثیر بھی گرم تر ہوتی ہے مگر اس کے فائدے بھی بے شمار ہیں دیسی آم کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے ،خون پیدا کرتا ہے اور جگر اور معدے کو تقویت دیتا ہے۔

آم کھانے کے ساتھ کھانا مناسب ہے یا پھر دوپہر کے بعد کھائیں ،آم کھانے کے بعد دودھ یا دودھ کی لسی پینے سے تازہ خون پیدا ہوتا ہے۔خیال رہے کہ جن کے معدے ،جگر اور مثانے میں گرمی ہو وہ آم استعمال نہ کریں۔

سیب

سیب کی تا ثیر متعدل ہے یہ دماغ کو تقویت دیتا ہے اور روح لطیف کرتا ہے ۔کمزور اور دبلے بدن کے لیے سیب بہت لاجواب پھل ہے ،جسم کو موٹا کرتا اور ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے،خشک کھانسی میں میٹھے سیب کھانا بہت مفید ہیں ، خیال رہے کہ سیب چھلکا اُتار کر کھانا چاہیے کیونکہ اس کا چھلکا دیر سے ہضم ہوتا ہے اور دماغی نظام کے لیے مناسب نہیں ۔