جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

جنرل قاسم سلیمانی، سعودی عرب کا پیغام لے کر عراق پہنچے تھے : ایرانی آرمی چیف

سعودی عرب کا پیغام لے

تہران : ایران کے آرمی چیف کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی، سعودی عرب کا پیغام لے کر عراق پہنچے تھے، جن ممالک سے امریکہ کو اطلاعات فراہم کی گئیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت سے متعلق چند رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ جنرل سلیمانی سعودی عرب کا پیغام لے کر عراقی وزير اعظم کی سرکاری دعوت پر عراق پہنچے تھے، جہاں امریکہ نے انہیں شہید کردیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید سلیمانی کی گاڑی کو جس بم سے ناشانہ بنایا گيا، وہ کوئی معمولی بم نہیں تھا، بلکہ ایک خاص نوعیت کا بم تھا، جو فولاد کی 30 سینٹی میٹر چادر کو بھی سوراخ کرسکتا ہے۔ یہ بم ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عراق میں امریکی سفارت خانے پر 3 راکٹوں سے حملہ

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اس بم سے جنرل سلیمانی کی گاڑی نشانہ بنایا تاکہ ان کا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔ امریکہ کے فوجی اڈے سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین نے اطلاعات فراہم کیں۔ امریکی جنگی طیاروں نے کویت، اردن اور عراق سے ہوائی اڈوں سے پرواز بھری اور امریکہ کی اس مجرمانہ کارروائی میں حصہ لیا۔

میجر جنرل باقری نے کہا کہ مذکورہ تمام ممالک کو شہید قاسم سلیمانی کے قتل کے سلسلے میں جواب دینا چاہیے کیونکہ انھوں نے جنرل سلیمانی کے قتل میں امریکہ کو مدد فراہم کی ہے۔

متعلقہ خبریں