جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

اپنے اندر شکریہ کہنے اور شُکرکرنے کی عادت تو ڈالئے!

شُکر

ویسے موازنہ کرنا اچھی بات نہیں اور کچھ چیزوں میں یہ انتہائی بُرا بھی لگتا ہے ۔ لیکن مقصد یا منزل مثبت ہو تو عجیب یا منفرد مثال کا سہارا لیا جاسکتا ہے،تاکہ موضوع کی اہمیت کو مضبوط مثال کےساتھ لوگوں کےذہن میں بٹھایا جاسکیں ۔

 

موازنہ بہت سی چیزوں میں کیا جاسکتا ہے ، جیسےبڑی گاڑی ، بڑا گھر ، مہنگا موبائل ، برینڈڈ کپڑو ں ، یعنی ہم اکثر اپر کلاس کے لوگوں کی لائف اسٹائل سے موازنہ کرتے ہیں اور پھر سوچتے ہیں کہ کاش ہمارا بھی کچھ اس طرح کا لائف اسٹائل ہوتا۔

 

چیزوں کودیکھ کر رشک کرنے میں قباحت نہیں البتہ اگر وہ چیز رشک کے بجائے حسد میں بدل جائے تو پھر موازنہ انتہائی خطرناک اور زہر قاتل ہے۔ موازنے کی چکر میں ہم اپنے پاس موجود چیزوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور موجود چیزوں کوبہت عام جانتے ہیں ۔ آپ کی زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں موجود ہونگی جن کے بارے میں کڑوڑوں لوگ سوچ بھی نہیں سکتےہیں۔یقیناً وہ گھر بھی ہوسکتا ہے، گاڑی بھی ہوسکتی ہے، برینڈڈ موبائل بھی ہوسکتا ہے جو آپ کے پاس موجود ہے مگر کڑوڑوں لوگوں کے پاس یہ چیزیں موجود نہیں ۔

 

یہ پڑھیں : پاکستان میں انقلاب  کے بعد کیا صورتحال ہوگی  ؟

 

موازنہ اگر شُکر کے لئے کیا جائے تو کوئی قباحت نہیں کیونکہ اس موازنے سے انسان کے پاس جو چیزیں موجود ہوتیں ہیں اس پر شکر کرنے کی تحریک ملتی ہے ۔ان چیزوں کے بارے میں سوچیں تو آپ کو اندازہ ہوگا۔

 

آپ صحت مند ہے تو شُکر کریں اس نعمت پر کیونکہ بہت سے لوگ مختلف قسم کی بیماریوں سے لڑرہے ہیں ۔ خود اپنی صحت کا خیال کریں اور دوسرے بیماروں کی تیمار داری کریں ۔ اگر آپ چھوٹی موٹی بیماری کو حاوی کرلیتے ہیں اور لڑنےسے پہلے ہی ہار مارنے لگتے ہیں تو آپ کسی سرکاری اسپتال کا دورہ کرلیں ، وہاں آپ کو جان لیوا مرض میں مبتلا مریض دکھائی دیں گے جو ہنسی خوشی بیماری سے لڑ رہے ہونگے۔

 

Thank You God Messages — For Everything, Blessings & Inspirational -  TheTalka

 

پاکستان میں نظام انصاف بھی بہت مختلف قسم کا ہے۔ ہمیشہ دعا کریں کہ اس نظام سے پالا نہ پڑے ۔ یہ نظام انسان کی پوری عمر کھا جاتا ہے ۔ جو اس سلسلے میں آجاتا ہے اس کی زندگی اس میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔اس سے بچئیے اس سے بچنے کی دعا مانگئے۔

 

آپ اکثر اپنے گھر کی حالت پر کڑُتے ہونگے اور سوچتے ہونگے کہ کاش بڑا گھر ہوتا یا خوبصورت گھر ہوتا۔وہ گھر آپ کا ہوتا ہے ، وہ چھت آپ کی ہی ہوتیں ہے ، وہ مکان آپ کا ہی ہوتا ہے۔ اگر کبھی یہ احساس ہو تو سڑک پر نکل جائیں ہزاروں بے گھر کھلےآسمان کےنیچے نظر آئیں گے۔ یہ ہی نہیں بہت سے کرایہ دار اپنے گھر کی دعا کرتے ہیں دوا کرتے ہیں ، مگر پوری زندگی کی محنت کے بعد بھی اپنا گھر ، اپنی چھت حاصل نہیں کر پاتے۔ جو گھر ہے جیسا بھی گھر ہے اس پر شکر کریں اور جن کے پاس اپنی چھت نہیں ہے ان کے لئے دعا کریں ۔

 

یہ پڑھیں  : جون صاحب کے نثری شاہکار

 

اپنے فریج ، دستر خوان پر نظریں ڈالئے ، دیکھئے کیا کیا نعمتیں موجود ہوتیں ہیں ۔ کیا کیا کھانے کی چیزیں آپ کے پاس موجود ہوتی ہیں۔ اپنے دسترخوان پر نظر ڈالئے مگر ہم ہر چیز پر ناشکری کرتے ہیں جو سہولیات یا نعمتیں موجود ہیں ان پر اکتفا نہیں  کرتے ۔آپ کے پاس جو چیزیں موجود ہیں لاکھوں لوگ اس چیز کی خواہش رکھتے ہیں ، جو آپ کے لئے معمولی ہے وہ کسی کے لئے بہت خاص ہے۔

 

اپنی سادہ اور آسان زندگی کو مشکل نہ بنائیں اور جو نعمتیں زندگی مہیا ہے اس پر شُکر کرنے کی عادت ڈالئےکیونکہ بہت سے لوگ آپ کے پاس موجود سہولیات کو رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں