جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

این آر او دینا اور سمجھوتا کرنا آسان راستہ ہے لیکن یہ تباہی ہے : وزیر اعظم عمران خان

این آر او دینا

اسلام آباد : وزیر اعظم نے کہا ہے کہ این آر او دینا اور سمجھوتا کرنا آسان راستہ ہے لیکن یہ تباہی ہے۔ این آر او دینے سے ہم بھی 4 سال پارلیمنٹ میں آرام سے تقاریر کرسکیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں این۔اوویٹیو ہیلتھ ٹیکنالوجی کا افتتاح کر دیا ہے۔ یہ ملک میں پہلی سہولت ہے جوامراض قلب کے مریضوں کے لیے معیاری اسٹنٹس تیار کرے گی، اس موقع پر وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور ڈائریکٹر نسٹ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نوید زمان بھی موجود تھے۔

نیشل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ لوگ دل کی بیماریوں سے فوت ہیں۔ مقامی سطح پر کارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم قدم ہے۔ نسٹ نے بڑی بنیادی چیز تیار کی۔ نسٹ نے موقع دیا کہ غریب مریضوں کا علاج کرسکیں۔ اس اقدام سے دل کے مریضوں کے علاج پر آنے والے اخراجات میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پوٹینشل زیادہ ہے، دماغ کے استعمال سے تبدیلی آتی ہے۔ حکومت اور اداروں کے درمیان روابط فریکچر ہوچکا ہے۔

جب وژن واضح نہ ہو تو پھر اداروں میں بھی وژن واضح نہیں ہوتا۔ قومیں طے کرتی ہیں کہ جانا کدھر ہے، ہمارا وژن دھندلا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی کمی کے باعث ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ ملکی ترقی کے لیے ڈالر آنے چاہیے نہ کہ باہر جانے چاہیے۔ بدقسمتی سے اداروں میں باہمی تعاون کا فقدان ہے۔ چین نے ایکسپورٹ کو بڑھایا ان کا ملک ترقی کرتا گیا۔ ترکی کو بھی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، پھر انہوں نے ایکسپورٹ کو بڑھایا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 60  کی دہائی میں پاکستان کی سمت درست تھی۔ ترقی کے سفر میں منزل اور سمت کا تعین ضروری ہے۔ حکومت سنبھالی تو برآمدات کے مقابلے درآمدات زیادہ تھیں۔

ایک ملک کاٹن فروخت کرکے ترقی نہیں کرسکتا۔ کوئی ملک ملائیشیاء کی طرح صرف ربڑ اور ٹین بیچ کر ترقی نہیں کرسکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا۔ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ بیرون ملک پاکستانی ہیں۔ بیرون ملک رہ کر ملکی قدر کا پتا چلتا ہے۔ ہمارا تاثر ایسا تھا کہ سبز پاسپورٹ پر سفر مشکل ہوگیا تھا۔ مائنڈ سیٹ بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کنونشن سینٹر میں شرکت پر وزیر اعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کا نوٹس جاری

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں سے میرا سب سے پرانا واسطہ ہے۔ ایسا ماحول بنانا ہوگا کہ بیرون ملک واپس آئیں۔ اوورسیزپاکستانیوں کے پاس مہارت ہے۔ اوورسیزپاکستانی آئیں تو کہا جاتا ہے دہری شہریت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے لیے ایشین ٹائیگر بننا کوئی وژن نہیں ہونا چاہیے۔ کیا آپ ایشین ٹائیگر بننا چاہتے ہیں؟ اسپورٹس میں انسان جدوجہد کرنا سیکھتا ہے۔ پیسہ بنانا بہت چھوٹا وژن ہے۔ اپنی سوچ چھوٹی نہ رکھیں۔ پوری زندگی کا فلسفہ نماز میں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جو ملک نیوکلیئر ٹیکنالوجی بناسکتا ہے اس کے لیے تو چیزیں آسان ہونی چاہیے تھیں۔ ہم گریجویٹس پیدا کرتے ہیں جو بے روزگار ہوجاتے ہیں۔ سنگاپور کی 300 ارب ڈالر سے زیادہ ایکسپورٹس ہیں۔ پاکستان ایک بہت غلط ڈائریکشن پر نکلا ہوا ہے۔ ہم اپنی صلاحیتوں کوسمجھ نہیں پاتے۔

عمران خان نے کہا کہ خوشی تب آتی ہے جب روح خوش ہوتی ہے۔ خوشی اللہ تعالیٰ کے بتائے راستوں سے جڑی ہے۔ شوکت خانم کا دروازہ جب پہلی بار کھلا تو مجھے بے انتہاء خوشی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جتنا بڑا وژن ہوگا اتنی مشکلات آئیں گی۔ انسان برے وقت میں سیکھتا ہے۔ میرے سامنے بھی دو راستے آئے ایک راستہ آسان ہے دوسرا مشکل ہے۔ سارے ڈاکو اکٹھے ہوجاتے ہیں کہ ان کو این آر او دے دیں۔ این آر او دینا اور سمجھوتا کرنا آسان راستہ ہے لیکن یہ تباہی ہے۔ این آر او دینے سے ہم بھی 4 سال پارلیمنٹ میں آرام سے تقاریر کرسکیں گے۔ ان کو این آر او دینا تباہی کا راستہ ہے۔ مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ملک درست سمت میں جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں