جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، کراچی واقعے پر ملزم کی تحقیقات کو تسلیم نہیں کریں گے : غفور حیدری

ملزم کی تحقیقات کو

اسلام آباد : مولانا غفور حیدری نے کہا ہے کہ کراچی واقعے پر ہم ملزم کی تحقیقات کو تسلیم نہیں کریں گے، جلسوں کے دوران کچھ ہوا تو ذمہ داری وزیراعظم ہر ہوگی۔

مولانا غفور حیدری نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے صرف دو جلسے ہوئے لیکن حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ 16 اکتوبر کو گوجرانولہ اور 18 کو کراچی جلسے ہی حکومت سے ہضم نہیں ہورہے 25 کو ہم کوئٹہ جارہے ہیں۔ کوئٹہ کا جلسہ بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا، جس سے پی ڈی ایم قیادت خطاب کرے گی۔

بقول عمران خان کے اگر وہ منتخب وزیراعظم ہیں تو پھر ڈر کیوں رہے ہیں۔ جب سے ہم نے جلسوں کا اعلان کیا ہے یہ گھبرائے ہوئے ہیں اور داڑھی پر ہاتھ رکھ کہتا ہے کہ نواز شریف کو جیل میں ڈال دونگا۔

کیا وزیراعظم اگر منتخب ہوتا تو ایسے باتیں کرتا؟ جیلر کو حکم دیا جارہا ہے کہ شہباز شریف سے بیڈ اور بستر تک چھیننے کا کہا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سندھ اور پنجاب کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرے گا۔ جب وطن بنا اس وقت سے چھوٹے صوبوں کے تحفظات تھے اور طویل جدوجہد کے بعد 18 ویں ترمیم منظور ہوئی۔ اس کے باوجود ایک آرڈیننس کے تحت بلوچستان اور سندھ کے جزائر پر قبضے کی کوشش کی گئی کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ڈی ایم کا تیسرا پاور شو، کوئٹہ میں تیاریاں روز و شور سے جاری

مولانا غفور حیدری نے کہا کہ مگر پارلیمان کے ہوتے ہوئے آرڈینینس جاری کئے جارہے ہیں اور اسے آرڈیننس فیکٹری بنادیا گیا ہے۔ اس طرح کی حرکت کرکے کیا حکمران خود عوام کو ریاست سے متنفر نہیں کررہے ہیں؟ سندھ میں جس طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس وفاق نے پامال کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے اس کی مذمت کرتے ہیں، آئی جی کے ساتھ ہونے والے سلوک کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔

رہنماء جے یو آئی کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سے تحقیقات کا کہا جارہا ہے مگر وفاق ہی مجرم یا ملزم ہے، چاہے وہ وزیراعظم ہو یا کوئی اور قوت۔ سب کچھ ان کی آشیر باد پر ہوا، اب یہ منصف بھی بنیں گے اور قاضی بھی؟ ملزم بھی وہی اور مجرم بھی وہی۔ ہم ملزم کی تحقیقات کو تسلیم نہیں کریں گے۔

 یہ لوگوں کو روزگار دینے آئے تھے مگر پی ٹی وی سے ساڑھے پانچ سو لوگ برخاست کردیئے گئے۔ ریڈیو پاکستان سے 760 ملازمین کو نکال دیا گیا،

ریاستی اداروں میں چھانٹیاں شروع کردی ہیں۔ یہ ایک کروڑ نوکریاں دینے والون نے 50 لاکھ نوجوانوں کو بے روزگار کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی سے خطرہ نہیں، ہمیں وزارت داخلہ سے خطرہ ہے، اپوزیشن جلسوں کے دوران کچھ ہوا تو ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔ کراچی واقعے کی ذمہ داری وفاقی اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ہم سے شف شف نہیں ہوگا، ہم شفتالو ہی کہیں گے۔ اب ان کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے اور استعفے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔

 مزید کہا کہ اس حکومت کو روز اول سے تسلیم نہیں کرتے، یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے۔ ہماری تحریک اس حکومت کے مخالف ہے،

سینیٹ الیکشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ہم اس حکومت کو ہی آئینی تسلیم نہیں کرتے۔ حکومت نے استعفیٰ نہ دیا تو پھر ہمارے پاس اس حکومت کو گھر بھیجنے کے بے شمار آپشن ہیں۔

متعلقہ خبریں