جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

حرص اور ہوس نے دنیا کی توجہ انسانیت سے ہٹادی ہے: وزیراعظم

حرص اور ہوس

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قدرتی ماحول کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، حرص اور ہوس نے دنیا کی توجہ انسانیت سے ہٹادی ہے، اب نہریں تو کیا نلکے میں بھی صاف پانی نہیں آتا۔

پاکستان کی میزبانی میں عالمی یوم ماحولیات کی مرکزی تقریب سے وزیراعظم عمران خان کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی کو اعزاز سمجھتا ہوں، دنیا جانتی ہے پاکستان واحد ملک ہے جو آنے والی نسلوں کی فکر کرتا ہے، قدرتی ماحول کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک کو ماحول سے متعلق بہت پہلے سے احساس تھا اور ان کو فکر تھی، چھانگا مانگا، میانوالی اور دیگر شہروں کے بڑے بڑے جنگلات ہمارے سامنے تباہ ہوئے، خیبرپختونخوا میں 5 سال کے اندر ایک ارب درخت لگائے، اب نہریں تو کیا نلکے میں بھی صاف پانی نہیں آتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 10سال ہمارے لیے موقع ہے کہ ہم نے اصلاح کرنی ہے، حرص اور ہوس نے دنیا کی توجہ انسانیت سے ہٹادی ہے، عالمی حدت کی وجہ سے پانی کا بڑا مسئلہ سامنے آرہا ہے، ہمارے صوبو ں سے ابھی سے پانی کے مسائل پر آوازیں اٹھ رہی ہیں، ایمان ہے کوشش کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیئے، عالمی حدت صرف ایک یاد و ممالک کو نہیں خطے کو لپیٹ میں لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی وجہ سے ماحولیاتی شعبے پر توجہ دی جارہی ہے: چودھری پرویز الہٰی

ان کا کہنا تھا کہ تاجک صدر کے مطابق ان کے ملک میں گلیشئر پگھل چکا ہے، ٹمبر مافیا نے جنگلات کو تباہ کردیا ہے،

خیبرپختونخوا میں ٹمبر مافیا سے نمٹتے ہوئے محکمہ جنگلات کے 10 اہلکار شہید ہوئے، ملک بھر کے اساتذہ بچوں کو شجرکاری مہم کی ترغیب دیں۔ خیبرپختونخوا میں شجرکاری مہم سے متعلق 2 سال نتیجہ کمزور رہا، خیبرپختونخوا میں شجر کاری مہم کے 3 سال میں مثبت نتائج آگئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سیلاب کا پانی ری چارج منصوبے کے تحت محفوظ بنائیں گے، پاکستان میں مینگروز بڑھتے جارہے ہیں، بھوکے لوگوں کو ماحولیات کی پرواہ نہیں، مقامی لوگوں کو کام کرنا ہوگا، خواتین اور نوجوانوں کو جنگلات سیکٹر میں ملازمتیں دیں گے، فاریسٹ گارڈز کو خود کی حفاظت کے لیے تربیت فراہم کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے خواتین میں کاشت کاری کا رجحان پیدا کرنا ہوگا، امیر ممالک کو عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے فنڈز فراہم کریں گے، ہمارا آدھا پیسہ قرض کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے، ہم نے کورونا کے دوران لوگوں کو ریلیف دیا تھا۔

متعلقہ خبریں