جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ہمارا نظام ظالم کا ساتھ دیتا ہے، مظلوم کا نہیں، ججز کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں : بلاول بھٹو

نظام بلاول بھٹو

ملتان : بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہمارا نظام زیادہ تر ظالم کا ساتھ دیتا ہے، مظلوم کا ساتھ نہیں دیتا۔ ججز کے خلاف سازشیں اور غیر جمہوری اقدامات کیے جارہے ہیںِ۔ زرداری صاحب جیل میں ہیں، لیکن کبھی احتساب کے خلاف سوال نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ملتان ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا نظام زیادہ تر ظالم کا ساتھ دیتا ہے، مظلوم کا ساتھ نہیں دیتا۔ ذوالفقار بھٹو نے سب کو متحد کرکے ملک کو متفقہ جمہوری آئین دیا، انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ شہید ذوالفقار بھٹو کو انصاف نہیں مل سکتا تو ایک عام آدمی کو کیسے مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ذوالفقار بھٹو کو انصاف نہیں دے سکتے تو عدلیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ بے نظیر بھٹو شہید کو تو انصاف دیں۔ ہمیں امید ہے کہ جلد ہی بے نظیر بھٹو کے خاندان کو انصاف ملے گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آج پھر عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں اور ججز کے خلاف سازشیں اور غیر جمہوری اقدامات کیے جارہے ہیںِ، ریاست سپریم کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ کے ججز تک انہیں زبردستی نکالنا چاہتی ہے، جمہوری قوتوں پر دباؤ ڈالنے والے ادارے نے انصاف کا مذاق بنا رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آصف زرداری اور نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار حکومت ہوگی : بلاول بھٹو

پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان نے ظلم برداشت کیا جعلی کیسز کا مقابلہ کیا۔ آج کے نئے پاکستان میں انصاف کے نظام کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ اس بات کی تفتیش نہیں ہوتی کہ چیئر مین نیب کہتا ہے اگر میں غیر جانب دار رہتا ہوں تو یہ حکومت گر جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے گیارہ سال پہلے ہی جیل میں گزارے وہ اس لیے کیونکہ صرف محترمہ کو بلیک میل کیا جانا مقصد تھا۔ زرداری صاحب جیل میں ہیں، لیکن کبھی احتساب کے خلاف سوال نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے لیئے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ اگر جرم سندھ کا ہو، ایف آئی آر سندھ میں ہو، تو ٹرائل کیسے پنڈی میں ہو رہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوری نظام کے لیئے ہمیشہ قربانی دی ہے اور دیتے رہیں گے۔ ہماری قیادت کے خلاف سیاسی مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ ہماری لیڈر شب کو بیماریوں کے باوجود جیل میں ڈالا جارہا ہے۔ جب ہم بات کرنے لیئے ہی آزاد نہیں تو اپنے مسائل کا حل کیسے نکال سکتے ہیں۔

بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا کس طریقہ سے اس ملک کے آئین کو اسلام کے نام پر بگاڑا گیا۔ یحییٰ خان کی آمریت کے بعد کس طرح ملک ٹوٹ گیا۔ اس کٹھ پتلی الیکٹڈ حکومت کو استعمال کرکے وفاق کی بنیادوں پر وہی حملے ہو رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ہم ماضی کی طرح ان قوتوں کا مقابلہ کریں تو ہم اپنے بچوں کا مستقبل، جمہوریت اور وفاق کو بچا سکتے ہیں۔ پھر سے ملک کی عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ جس شعبے کو اٹھا کر دیکھ لیں بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ کسی کے اشارے پر اقتدار میں آنے والے صرف اپنے سلیکٹرز کو خوش کرتے ہیں۔ ملتان،موجودہ حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ہر طبقہ متاثر ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی نہیں اس لئے عوام کی فکر نہیں، حکومت عوامی ووٹ سے اقتدار میں آئی ہوتی تو ملک کی فکر ہوتی۔ اس وقت تک کوئی عوامی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا جب تک سلیکٹڈ حکومت کا مسئلہ حل نہ ہو۔ نئے پاکستان میں جمہوریت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں