آئندہ 4 برس میں چھوٹے کاروبار کی تعداد 7 لاکھ تک ہوجائے گی، وفاقی وزیر

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ملک میں آئندہ 4 برس میں چھوٹے کاروبار کی تعداد 2 لاکھ سے بڑھ کر 7 لاکھ تک ہو جائے گی۔

اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ نجی قرضوں میں چھوٹے کاروبار کا حصہ صرف 7.5 فیصد ہے اور آئندہ 4 برس میں نجی قرضوں میں چھوٹے کاروبار کے لیے قرضہ 17 فیصد تک پہنچنے کا ہدف طے کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ 4 برس تک چھوٹے کاروبار کی تعداد 2 لاکھ سے بڑھ کر 7 لاکھ تک ہوجائے گی۔

حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے درجے کے کاروبار معیشت میں اہمیت کے حامل ہیں لیکن گزشتہ حکومتوں نے اس کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر ہفتے معیشت پر اجلاس کرتے ہیں، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار، نجی سیکٹر کے مجموعی قرضے کا 7 فیصد وصول کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کامیاب نوجوان اسکیم کے تحت آسان قرض فراہم کیے جا رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین مقرر

حماد اظہر نے کہا کہ سمیڈا کے لیے بنائی گئی نئی پالیسی چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کاروبار میں آسانی میں 28 پوائنٹس بہتری ہوئی، آئندہ سال پاکستان کی رینکنگ میں مزید بہتری آئے گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد میں سات لاکھ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا شعبہ ٹیکس نظام میں شامل ہی نہیں ہونا چاہتا، چیئرمین ایف بی آر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے شعبے میں کم قرض کی وجوہات غیر دستاویزی ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار دستاویزی نہ ہونے کے باعث زیادہ قرض حاصل نہیں کر سکا۔

شبر زیدی نے کہا کہ ملک میں بجلی کے 31 لاکھ صنعتی اور کمرشل صارفین ہیں جن میں سے صرف 43 ہزار سیلز ٹیکس رجسٹرڈ ہیں۔