جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

20 سال افغانستان میں کام کیا، اب وہاں سے نکلنے کا وقت ہے : جو بائیڈن

20 سال افغانستان

واشگنٹن : امریکی صدر کا ایک بار پھر اپنے فیصلے کے دفاع میں کہنا تھا کہ 20 سال افغانستان میں کام کیا، اب وہاں سے نکلنے کا وقت ہے۔

امریکی صدارتی انتظامیہ طالبان کی تیزی سے حاصل کی گئی کامیابی کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، جس پر حکومت ارکان کو بار بار میڈیا پر آکر وضاحتیں دینی پڑرہی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے نائب صدر اور وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکہ نے 20 سال افغانستان میں کام کیا۔ القاعدہ اور داعش کا خاتمہ کیا، اب وہاں سے نکلنے کا وقت ہے۔

انہوں نے کابل سے شہریوں کی منتقلی کو تاریخ کے سب سے بڑا اور مشکل مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس زمین پر تقریباً چھ ہزار فوجی ہیں، جو رن وے کی حفاظت کرتے ہیں۔ کابل ایئر پورٹ پوری طرح سے کنٹرول میں ہے اور وہاں سے شہریوں کو نکالنے کا کام مسلسل جاری ہے۔ 14 اگست سے شروع ہوئے فوجی ایئرلفٹ مہم کے بعد تقریباً 13,000 لوگوں کو کابل سے نکال چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : 90 کی دہائی کی غلطیاں دہرانا نہیں چاہتے، فیصلہ افغان عوام کو کرنا ہے : وزیر خارجہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ہوائی اڈے کو محفوظ کیا، جس کے باعث نہ صرف فوجی پروازیں، بلکہ دیگر ممالک کے شہری چارٹر کے ساتھ ہی شہریوں اور کمزور افغانیوں کو باہر نکالنے والے غیر سرکاری تنظیموں کی پروازیں بھی پھر سے شروع ہو رہی ہیں۔

امریکی صدر نے افغانستان سے نکاسی مشن سے متعلق کہا اس میں مسلح اہلکاروں کے لئے کافی خطرہ ہے اور اسے مشکل حالات میں آپریٹ کیا جا رہا ہے۔ میں یہ وعدہ نہیں کرسکتا کہ آخری نتیجہ کیا ہوگا۔

جو بائیڈن نے داعش سمیت دیگر انتہاپسند دہشت گردوں کی جیلوں سے رہائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مبینہ دہشت گرد بڑا خطرہ ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں