جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی

نصیر ترابی

آپ جانتے ہیں کہ اس کے مصنف نصیر ترابی تھے۔ سنہ 2011 میں ہم ٹی وی پر نشر ہونے والے مقبول ڈرامے ‘ہم سفر’ نے زبردست مقبولیت حاصل کی جبکہ اس ڈرامے کا ساؤنڈ ٹریک آج بھی ہر کسی کو ذہن نشین ہو گا

نصیر ترابی کی اس غزل کو ڈرامے کے ساؤنڈ ٹریک کے حصے کے طور پر استعمال کیا گیا اور مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا۔

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی’ غزل مشہور ہونے کے بعد دیکھا گیا کہ جب بھی نصیر ترابی کسی تقریب میں شرکت کرتے تو شرکا ان سے یہ غزل پڑھنے کی فرمائش کیا کرتے تھے۔ جبکہ آج بھی بہت سے لوگ، خصوصاً نوجوانوں کے لیے اس کی پہچان ڈرامہ ’ہم سفر‘ ہی ہے۔

اس بارے میں تجزیہ کار وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ غزل ہمیشہ اسی انداز میں لکھی جاتی ہے۔ براہ راست باتیں نظموں میں کی جاتی ہیں جبکہ غزل میں آپ اشاروں، قافیوں اور دیگر چیزوں سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ فیض احمد فیص کی غزل کی مثال لے لیں، تو انھوں نے بھی مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر لکھا تھا کہ ‘خون کے دھبے دھولیں گے کتنی برساتوں کے بعد’ اس غزل کے بھی کئی مطلب نکالے جا سکتے ہیں

کہ یہ تو محبوب کے لیے کہی گئی ہے۔ جبکہ غزل کا اپنا ایک برتاؤ ہوتا ہے اس لیے اسے ہمیشہ اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اسی طرح نصیر ترابی نے بھی یہ غزل قیام بنگلہ دیش کے پس منظر میں ہی لکھی تھی۔

تاريخ دان عقل عباس جعفری نے بتایا کہ سنہ 1980 میں یہ غزل سب سے پہلے عابدہ پروین نے گائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عابدہ پروین نصیر ترابی صاحب کے محلے ہی میں رہتی تھیں اور ان ملنا جلنا تھا جس کے بعد اس غزل کو گائیکی کی شکل دی گئی۔

اس غزل کو ڈرامے ‘ہم سفر’ میں بطور ساؤنڈ ٹریک استعمال کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘مجھے یاد ہے کہ نصیر ترابی نے ایک مرتبہ اس ساؤنڈ ٹریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس غزل کو ڈرامے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا تو پروڈکشن ہاؤس والوں کو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ اس کے مصنف کون ہیں
تحقيق کے بعد انھوں نے مجھ سے کاپی رائٹس کی اجازت لی۔

عقیل عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں نصیر ترابی بہت اچھے شاعر اور بڑا نام تھے لیکن ان کے نام کو فوری طور پر اتنی مقبولیت نہیں ملی جس طرح دیگر چند شاعروں کو ملی۔ اس بات کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ اچھے شاعر کی پہچان یہی ہے کہ اس کی شاعری اس کے نام سے پہلے لوگوں تک پہنچتی اور مقبول ہوتی ہے۔

نصیر ترابی حیدرآباد دکن میں 15 جون 1945 کو مشہور عالم دین اور خطیب علامہ رشید ترابی کے ہاں پیدا ہوئے۔

پاکستان کے قیام کے بعد ان کے اہل خانہ پاکستان میں کراچی آ گئے، جہاں وہ بڑے ہوئے۔ انھوں نے سنہ 1968 میں کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

سنہ 2019 میں نصیر ترابی نے ڈان نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی شاعری کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ‘جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو میں نے اپنا سفر مباحثے اور مناظرے سے شروع کیا۔

ایسے ہی ایک مقابلے میں، میری تیسری پوزیشن آئی۔ جس پر میرے ایک استاد نے مجھے کہا کہ ‘اگلی مرتبہ اپنے باپ سے اچھی تقریر لکھوا کے لے کر آنا۔’ جس کے بعد میں مباحثے کو ترک کردیا۔

جس پر میرے سکول کے پرنسپل نے وجہ پوچھی تو میں نے جواب دیا کہ اگر میں پہلی پوزیشن لوں تو میرے باپ کو کریڈٹ دیا جاتا ہے اور اگر میں تیسری پوزیشن لوں تو بھی میرے باپ کے نام کی بدنامی ہوتی ہے۔ اس لیے میں اپنا نام بنانا چاہتا ہوں۔ جس کے بعد میں شاعری کی طرف چلا گیا۔

یہ بھی پڑ ھیں:لاک ڈاؤن: عامر غلام علی اور ساحر علی بگا کی غزل گائیکی، ویڈیو وائرل

وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اتبے بڑے پیڑ کے نیچے چھوٹا سا پودا سانس بھی نہیں لے سکتا۔’

انھوں نے مزيد کہا کہ ادب اور شاعری کے حوالے سے انھوں نے جو بھی کام کیے ہیں آج وہ سب کے سامنے ہیں۔

’اگر انھیں کسی کا کوئی شعر یا کام پسند آتا تھا تو وہ اسے پروموٹ کرتے تھے۔ لوگوں کا خیال رکھنا، ان کی مدد اور فکر کرنا ان کی ذات کا حصہ تھا۔ اس لیے وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ انسانوں سے محبت کیجئے اور چیزوں کو استعمال کیجیئے۔

کتاب کے دیگر ابواب میں بھی مروجہ اصنافِ سخن، متروکہ اصناف، درست املا، تلفظ، تذکیرو ثانیت، واحد جمع، ُمنافات، مشابہ الفاظ، سابقے لاحقے، غلط العام الفاظ اور نافذہ اصطلاحات کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے اور نصیر ترابی نے اپنے مخصوص خوشگوار اور چُلبلے انداز میں ان خشک قواعدی موضوعات کو بھی اتنا دلچسپ بنا دیا ہے کہ گرامر سے بیزار کسی شخص کو بھی یہ کتاب تھما دی جائے تو ختم کئے بغیر اُٹھ نہیں سکے گا۔

 

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت

بچھٹرنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

متعلقہ خبریں