جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ہیڈ ماسٹرز کا سندھ اسمبلی پر احتجاج تیسرے روز میں داخل

ہیڈ ماسٹرز

کراچی : آئی بی اے ٹیسٹ پاس ہیڈ ماسٹرز کا سندھ اسمبلی پر احتجاج تیسرے روز میں داخل ہوگیا ہے۔

احتجاجی اساتذہ مستقلی کا مطالبہ لئے سراپا احتجاج ہیں، ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کی جارہی ہے۔

ہیڈ ماسٹرز کا مؤقف ہے کہ 937 سندھ بھر کے آئی بی اے سکھر سے امتحان پاس کرنے کے باوجود مستقل نہیں کیا جارہا۔ اٹھارہ دن گزرنے کے باوجود حکومت سندھ نے ہمارا مطالبہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ہم نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لاپتہ افراد بازیابی کیس : سندھ ہائی کورٹ میں جذباتی مناظر، بوڑھی ماں رو رو کر نہال

اساتذہ کے مطابق وزیر اعلی سندھ کی جانب سے بنائی گئی انٹرویو کمیٹی سے انٹرویو بھی پاس کرچکے ہیں۔ دوبارہ ایس پی ایس سی کا امتحان لینا غیر آئینی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سندھ ہیڈ ماسٹرز کو بذریعہ سندھ اسمبلی مستقلی کا بل جاری کرے۔

واضح رہے کہ مظاہرین نے گذشتہ روز بھی وزیر اعلی ہاؤس جانے کی کوشش کی۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکا گیا، آرٹس کونسل چورنگی پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپ ہوئی تھی۔ خاتون نے خودسوزی کی بھی کوشش کی، جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔

دوسری طرف وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کوئی بھی آرڈر جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ کورٹ میں ہے، عدالت کے کام میں مداخلت نہیں کرسکتے۔

متعلقہ خبریں