جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیئے سماعت

ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی

اسلام آباد : عدالت نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیئے 20 نومبر تک کا وقت دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کی ای سی ایل سے نام نکلوانے کے درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کی جانب سے وکیل عمر آدم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت ای سی ایل نام نہ نکالنے کا وزارت داخلہ کا 31 اکتوبر 2019 کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے۔ پروفیشنل کام اور فیملی سے ملنے کے لیے بیرون ملک جانا ہے۔

وکیل نے کہا کہ اسد درانی اور ان کے اہل خانہ قابل فخر پاکستانی ہیں، دوہری شہریت بھی نہیں رکھتے۔ ای سی ایل میں نام رکھنا بلیک میل یا خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ اسد درانی ملک کے لئے لڑتا رہا، ابھی بھی اپنی ایمانداری کا تحفظ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسد درانی کی درخواست پر وزارت داخلہ کو نوٹس جاری

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت وزارت داخلہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دے، بغیر کسی وجہ سے اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا گیا؟ وزارت دفاع کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ اسد درانی کے حوالے سے انکوائری ختم ہو گئی ہے، جلد ای سی ایل سے نام نکالا جا رہا ہے۔ عدالت ایک ہفتے کا وقت دے۔

عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں