عدالت نے اسکولوں کو موسم گرما کی فیس وصول کرنے سے روک دیا

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں اسکول فیسوں میں غیرقانونی اضافے سے متعلق کیس کی سماعت، اسکول دو ماہ کی فیس ایک ساتھ نہیں لے سکتا، اگر کسی اسکول نے دو ماہ کی فیس ایک ساتھ مانگی تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، عدالت کا حکم،

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں اسکول فیسوں میں غیرقانونی اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے موقع پر والدین کی جانب سے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سٹی اور بیکن ہائوس اسکول عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کررہے، مئی اور جون کی فیس بھی ایک ساتھ مانگ رہے ہیں۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ کوئی اسکول دو ماہ کی فیس ایک ساتھ نہیں لے سکتا، دو ماہ کی فیس وصول کرنے والے اسکولوں کو ایک ماہ کی فیس واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اسکول نے دو ماہ کی فیس ایک ساتھ مانگی تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے والدین بھی عدالتی حکم کے مطابق فیس ادا کریں، اسکول جو چالان جاری کررہے ہیں، والدین وہ فیس جمع کرادیں،اس کے بعد اگر کوئی فرق پایا گیا تو عدالت والدین کو واپس کرادیں گی، عدالت نہیں چاہتی کی کسی بھی وجہ سے یہ اسکولز بند ہوجائیں۔

اسکولوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عام طلبہ کی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں ہے تاہم عدالتی چارجوئی میں مصروف والدین فیسیں ادا نہیں کررہے ہیں، ہم نے سندھ ہائی کورٹ کے پانچ فیصداضافے کے فیصلے اور سپریم کورٹ کی جانب سے فیس میں بیس صد کمی کے فیصلے پر عمل درآمد کیا ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔