جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

ہم زندگی میں عبرت کیسے حاصل کرسکتے ہیں ؟

زندگی میں
جاننے والوں یا رشتے داروں سے ملاقات میں ایک جملہ اکثر کہا جاتا ہے کہ” اگر زندہ رہے تو پھر ملاقات ہوگی”۔

 

یہ جملہ ادائیگی میں تو کتنا اچھا محسوس ہوتا ہے لیکن اس جملے کو حقیقی طور پر تسلیم کرلیا جائے تو کتنی اچھی بات ہونگی۔ بلکہ اگر اس جملے کو اپنی زندگی میں نافذ کرلیا جائے تو پھر آپ کی زندگی میں بھی اور آپ سے جڑے لوگوں کی زندگی میں بھی انقلاب برپا ہوجائے گا۔

 

کیا  آپ کو معلوم ہے  : پاکستان میں انقلاب آچکا ہے

 

اب اس جملے پر بات کرتے ہیں کہ” زندہ رہا تو ملاقات ہوگی”۔ یعنی یہ بات معلوم ہے کہ یہ ملاقات آخری بھی ہوسکتی ہے ، یہ دن آخری بھی ہوسکتا ہے ، یہ لمحات آخری بھی ہوسکتے ہیں ۔

 

لیکن جملے کے برعکس ہم مکمل برخلاف چلتے ہیں اور اس جملے کو فقط لفاظی ثابت کرتے ہیں ۔ اور پھریہ بات ہم حقیقی زندگی میں بھول جاتے ہیں اور پھر روز مرہ سیاست اور منافقت میں لگ جاتے ہیں۔

 

یہ جملہ بظاہر بہت عام سا ہے مگر اپنے آپ کو سنوارنے کے لئے اس سے آسان فہم جملہ ممکن نہیں ۔ کیونکہ اگر اس جملے کو حقیقی طور پر ہم نے اپنے اوپر نافذ کردیا تو زندگی خود با خود سکون میں آجائے گی۔

 

10 Life Lessons Learned in Elementary School - Insider Monkey

 

یہ ہی نہیں زندگی کو سکون سے گزارنا ہےتو اسے منافقت سے پاک کرنا ہوگا ۔یعنی اندرونی سکون حاصل کرنا ہوگا اوراندرونی سکون کا سب سے آسان فارمولہ ہے انسانوں سےمحبت ، اپنے جیسے انسانوں کی عزت،پھر یہ محبت اور یہ عزت جب پلٹ کر واپس آئے گی تو سکون نصیب ہوگا اور دلی اور ذہنی طور پر اطمینان بھی رہےگا۔

 

ہم تقریبا ً ہر چند دنوں میں حادثات دیکھتے ہیں ، ناگہانی اموات دیکھتے ہیں ، اس کے باوجود موت کا خوف چند لمحوں یا گھنٹوں بعد ہی غائب ہوجاتا ہے اور پھر وہ ہی باتیں ، وہ ہی دنیا کی سیاست، وہ ہی نفرت کے بازار کی سوداگری، وہ ہی جھوٹ ومکاری ، وہ ہی فریب و دھوکا بازی ، وہ ہی رشوت وچور بازاری میں مگن ہوجاتے ہیں۔

ہم مہینے میں ایک بار یا کسی کے انتقال کے باعث قبرستان بھی جاتے ہیں ، ٹوٹی قبریں بھی دیکھتے ہیں،عرصےسے ویران پڑی قبریں بھی نظر آتی ہیں ، نوجوانوں کی قبریں بھی دکھائی دیتی ہیں لیکن پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے ہیں اور جیسے ہی قبرستان سے باہر نکلتے ہیں سب بھول بھال کر اپنی منافقت بھری دنیا میں واپس قدم رکھ دیتے ہیں ۔

 

یہ پڑھیں  : مظلوموں کا انصاف کب ملے گا ؟

 

ہماری یاد داشت انتہائی کمزور ہوتی ہے ۔ جب بیمار ہوتے ہیں یا کسی مشکل میں ہوتے ہیں تو غلط خیا ل یا غلط سوچ سے دور ہوجاتے ہیں ، اس بیماری کے دوران نہ کسی کے خلاف سازش کرتے ہیں اورکسی کے خلاف کچھ سوچتے ہیں بلکہ سارا دھیان مشکل کے حل یا پھر بیماری سے صحت حاصل کرنے کی جانب ہوتا ہے ۔

 

لیکن جیسے ہی مشکل سے نجات حاصل ہوتی ہے ہم دوسرے کو مشکل میں ڈالنے کے لئےکمر کس لیتے ہیں ۔ غیبت کا میدان ایک دن میں کئی کئی بار لگالیتے ہیں ۔ ملنے والوں سے ایسے ملتےہیں کہ گویا ان کا ہی انتظا ر ہو مگر ان کے جانے کے بعد اسی کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔

 

اگر ہم دنیا کی حقیقی الجھنوں کو سمجھنا چاہتے ہیں یا عبرت حاصل کرکے زندگی کو انسانیت پسند بن کر گزارنا چاہتے ہیں تو اسپتال،تھانہ، کورٹ کچہری اور قبرستان جیسے مقامات پر کچھ کچھ عرصے بعد چلے جایا کیجئے کیونکہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں آپ کو موت کے منتظر ،مجبور زندگی، ذہنی تناؤ کا شکار انسان اور موت کا شکار لوگ نظر آئیں گے اور جب اس طرح کے لوگ نظر آئیں گے تو عبرت بھی حاصل ہوگی اور زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے کوششیں بھی تیز ہو جائیگی۔

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں