جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کسی کو اعتماد نہیں تو ای ووٹنگ مشینوں کا استعمال کس طرح ممکن ہے؟ پیپلز پارٹی

کسی کو اعتماد

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخاب کا حق دینا ہیکنگ کے باعث محفوظ نہیں، جب کسی کو اعتماد نہیں تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کس طرح ممکن ہے؟

پیپلز پارٹی کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور انہیں حکومت کے الیکشن ریفارمز پر اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔

نوید قمر نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم پیپلزپارٹی کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے لیے آئے۔ ہمارے الیکشن لاز کے حوالے سے بہت سے تحفظات ہیں۔ پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کس طرح ممکن ہے، جب ان پر کسی کو اعتماد نہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے بھی تجربات کیے جو ناکام رہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کبھی صحیح نہیں ہوا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال دور افتادہ علاقوں میں کیسے ہو گا؟

یہ بھی پڑھیں : سندھ کو وفاق سے حصہ نہیں مل رہا، صوبے کا قتل ہو رہا ہے : نثار کھوڑو

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخاب کا حق دینا محفوظ نہیں۔ انٹرنیٹ پر ہیکنگ ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ فری اینڈ فیئر انتخاب کروائیں گے۔ حکومت نے دیکھ لیا ہے اب اگلا الیکشن وہ جیتنے والی نہیں۔

سابق چئیرمین سینیٹ نیئر بخاری نے کہا کہ موجودہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔ حکومت آئین سے متصادم ترامیم لا رہی ہے۔ ای ووٹنگ مشینیں ہیک ہو سکتی ہیں۔

نائب صدر پیپلز پارٹی شیری رحمان نے کہا کہ یہ عوام سے ووٹ کا حق چھینا چاہتے ہیں۔ ان سے ان کے ایم این اے نہیں سنبھل رہے۔ یہ آئینی اداروں کو تصادم اور مشینوں اور دوسرے حربوں سے ترامیم لانا چاہتے ہیں۔ ہم اس کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں