جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

یہ چند کام انجام دیجئے اور موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کریں

موسمی تبدیلیوں
دنیا بھر میں مختلف قسم کی تبدیلیاں تیزی کے ساتھ رونما ہورہی ہیں۔کچھ تبدیلی انسان خود کررہے ہیں اور کچھ تبدیلی انسانی غلطیوں کی وجہ سے بھی وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ان تبدیلیوں میں ایک تبدیلی جو دنیا بھر میں دیکھنے میں آرہی ہےوہ آب و ہوا کی تبدیلی بھی ہے۔

 

پاکستان کی آب وہوا بھی تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے جس کی وجہ سے کافی موسمی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ موسم اور آب و ہوا میں لوگ کنفیوز ہوجاتے ہیں مگر یہ دونوں الگ الگ چیزہیں۔

 

یہ پڑھیں : گھٹیا فعل انجام دینے والے مولوی کے خلاف فتوی کون دے گا؟

 

موسم سے مراد درجہ حرارت، دباؤ،ہوا میں نمی، گرمی وسردی کی لہر ، بارش،برف باری ،ہیٹ اسٹروک وغیر شامل ہیں۔ جب کے کسی علاقے یا ملک کی طویل عرصے کی موسمی کیفیات کا مطالعہ آب و ہوا کہلاتا ہے۔ موسمی کیفیات سے مراد ہوا کا دباو، درجہ حرارت، رطوبت (نمی) اور بارش کی اوسط شامل ہے۔ آب و ہوا سالوں بعد تبدیل ہوتی ہے جب کہ موسم سال بھر میں کئی بارتبدیل ہوتے ہیں۔

 

موسمی تبدیلیوں

 

پاکستان کی آب وہوامیں گزشتہ 15 ، 20 سالوں میں کافی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔اس تبدیلی کو ہم نے ہیٹ اسٹروک ، ابنارمل بارشیں، سیلاب، ٹڈی دل کے حملےاور دوسری شکلوں میں دیکھا ہے۔

 

آب و ہوا کی تبدیلی پوری دنیا میں دیکھنے میں آرہی ہے اور پاکستان میں بھی بہت تیزی کےساتھ آب و ہوا میں تبدیلی محسوس اور دیکھی جاسکتی ہے۔ اس تبدیلی کی بہت سی وجوبات ہیں جس کی وجہ سے آب و ہوا میں بہت تیزی سے فرق آیا ہے۔

 

پاکستان کی آب وہوا میں تیزی سے تبدیلی کی وجوہا ت یہ ہیں۔

 

٭ درختوں کا کٹنا اور نئے درخت لگانے کی رفتا رمیں کمی

٭ خطرناک قسم کا کچرا بالخصوص پلاسٹک کی تھیلوں کو جلانا

٭فیکڑیوں کا دھواں

٭دھواں اُڑاتی گاڑیاں

یہ بھی پڑھیں : چار سو تین طرح کے مناظر ہیں

 

اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ لیکن ان سب معلومات کے باوجود ان معاملات کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی خاص حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ۔ جس کی وجہ سے ماحول دن بہ دن بدتر ہوتا جارہا ہے۔

 

پاکستان کے بیشتر شہر دنیا کے آلودہ ترین شہر بن گئے ہیں اور یہ ہی آلودگی آب و ہوا کی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس معاملے کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت اور عوام دونوں کا ساتھ ساتھ چاہئیے تاکہ اس ماحولیاتی آلودگی کوکم اور آب و ہوا میں ہوتی خرابی کو کنڑول کیا جاسکیں۔

 

وہ کون سے ایسے کام ہیں جو حکومت کو اور عوام کو مل کرکرنے چاہیئے۔

 

موسمی تبدیلیوں

 

٭ درخت لگائیے اور اس کی دیکھ بھال کیجئے۔کسی بھی خاص ایونٹ بالخصوص عید جیسے موقع پردرخت لگانے کی ایکٹیویٹی انجام دیجئے اور یہ کام اپنے خاندان والوں کے ساتھ انجام دیجئے۔اگر یہ کام آپ نہیں کرسکتے تو کم سے کم ان درختوں کی نگہداشت کیجئے جو حکومت نے لگائیں ہیں تاکہ کوئی اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔

 

٭کچرا جلانے پر پابندی ہواور خلاف ورزی کرنے والے کو فوری سزا ئےملیں، کچرا کنڈی کے علاوہ کچرا پھینکنے والوں کو جرمانے ہوں۔

٭پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی ہو اور ماحول دوست پلاسٹک بیگز اور کپڑوں کے تھیلے استعمال کرنے پر زور دیا جائے۔

٭دھواں اڑاتی پرُانی گاڑیوں پر پابندی ہو اور ان کا فٹنس ٹیسٹ کیا جائے اور اس کے بعد انھیں سڑک پرآنے کی اجازت ہو۔

٭بڑی بڑی فیکٹریوں کو شہر سے باہر رکھا جائے اور اگرمشینوں کے دھویں کو روکنا ممکن نہ ہو تو فیکٹریوں کے لئے سزا کے طور پر ماہانہ ہزاروں درخت لگانے کا قانون ہو۔بلکہ فیکڑی کی ریونیو کے مطابق درخت لگانے کا قانون بنایا جائے۔

٭اسکولوں میں ماحولیاتی آلودگی کے وجوہات اور اس کے سدباب سے متعلق ایک پورا مضمون ہو جو کم سے کم ایک پرائمری اور ایک سیکنڈری کلاس میں پڑھایا جائے تاکہ آنے والی نسل کو اس بارے میں تیار کیا جائے۔

یہ چند معمولی معمولی سے کام ہیں جس پر اگر عمل کرلیا جائے تو ماحولیاتی آلودگی کی عفریت کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ تو آج سے کوشش کیجئےاور ان باتوں پر کم سے کم انفرادی طور پر عمل تو کیجئے تاکہ ہم سبز انقلاب کی جانب قدم بڑھا سکیں۔

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔





متعلقہ خبریں