جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

نواز شریف کی صحت سے متعلق جلد کچھ نہ کیا گیا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا : مریم اورنگزیب

مریم اورنگزیب کچھ نہ کیا گیا تو

لاہور : مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کی صحت سے متعلق جلد کچھ نہ کیا گیا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ وفاقی وزراء اور ترجمان نواز شریف کی صحت پر سیاست کر رہے ہیں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی صحت سے متعلق بیان جاری کیا ہے کہ جس میں انہوں نے بتایا کہ لیگی قائد نواز شریف کی صحت کے جائزے کے لئے شریف میڈیکل بورڈ کا اجلاس ہوا۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ اسٹیرائڈز، انسولین اور دیگر ادویات کی ہائی ڈوز کے سائیڈ ایفکٹس سے نواز شریف کے جسم پر سوجن پیدا ہوگئی ہے۔ ڈاکٹرز نے نواز شریف کے جسم پر ظاہر ہونے والے منفی اثرات پر فکرمندی، گہری تشویش اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نواز شریف کی صحت : مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کا اہم اجلاس آج طلب

ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق جلد کچھ نہ کیا گیا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اسٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز کی وجہ سے نواز شریف کی بلڈ شوگر بھی بہت زیادہ ہے۔ ہائی بلڈ شوگر کی وجہ اسیٹرائیڈز کی ہائی ڈوز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے اسٹیرائیڈز کی زیادہ مقدار کے باعث نواز شریف کے لئے انسولین کی مقدار بڑھا دی ہے۔ دن میں چار مرتبہ انسولین لگائی جارہی ہے۔ اسیٹرائیڈز کی ہائی ڈوز پلیٹ لیٹس کی مقدار سفر کے قابل بنانے کے لئے مجبورا دی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز کے منفی اثرات کے لئے ادویات میں ردوبدل کیا گیا اور ان کی مقدار بڑھائی گئی ہے۔ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو مزید کوئی وقت ضائع کئے بغیر بیرون ملک لیجانے کی وارننگ دی ہے۔ ڈاکٹرز کو تشویش ہے کہ اسٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز کے منفی اثرات نواز شریف کی زندگی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی وزراء سمیت کرائے کے تمام ترجمان آج تک نواز شریف کی صحت پر سیاست کر رہے ہیں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، یہ جاننے کے باوجود حکومت دانستہ نوازشریف کی زندگی کے راستے میں غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے۔

ترجمان (ن) لیگ نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر بے حس حکومت نے ضمانت دینا ہوتی تو 29 اکتوبر کو نواز شریف کو ضمانت دے دی جاتی ہے۔ حکومت کو انسانی بنیادوں پر اتنی ہمدردی ہوتی تو نواز شریف کی صحت کے لئے 15 قیمتی دن ضائع نہ کرتی۔ حکومت کے تاخیری حربے نواز شریف کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں