جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھے گی : مفتاح اسماعیل

میں نے یہ نہیں

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار وزیر اعظم کو قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام شروع ہوچکا ہے۔ رات کو بھی فنانس ڈویژن کی میٹنگ ہوئی تھی۔ امید ہے کہ اگست کے آخر تک بورڈ میٹنگ ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر 17جولائی کے بعد ہمارے کنٹرول سے نکل گیا تھا، جو 239 تک گیا، اس کے بعد کنٹرول کیا گیا، اب واپس نیچے آرہا ہے۔ درآمد کم ہوگی تو روپیہ مضبوط ہوگا، ہم نے غیرضروری اشیا کی درآمد پر پابندی لگائی، 10 فیصد ایکسپورٹ نہ کرنے والوں پر اضافی ٹیکس لاگو کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم سے 15 اگست کے درمیان دنیا کی بہترین مضبوط کرنسی پاکستانی روپیہ تھا اور سب سے تیز مارکیٹ پاکستان اسٹاک مارکیٹ تھی۔

یہ بھی پڑھیں : پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 6 روپے سے زائد کا اضافہ

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال ساڑھے 17 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا۔ گزشتہ حکومت نے جب 4 ڈالر کی ایل این جی مل رہی تھی۔ تب نہیں خریدی۔ ایل این جی ٹرمنل لگانے کا کہا جاتا رہا، لگایا نہیں گیا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب دنیا میں کوئی پیسے دینے کو تیار نہیں تو یہ کیسی حقیقی آزادی عمران خان حکومت نے 20 ہزار ارب کا قرض چڑھایا۔ بجلی کا خسارہ 1500 ارب روپے تک پہنچایا۔ گیس کے شعبے میں 1400 ارب کا قرض کھڑا کردیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے ایل این جی لوکل گیس کی قیمت پر بیچی۔ آپ نے پیٹرول، ڈیزل پر کوئی لانگ ٹرم معاہدہ نہیں کیا۔ آپ آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے مکر گئے اور دوستوں کو ایمنسٹی دی۔ گزشتہ حکومت نے امپورٹ روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کل شام تک پاکستان سے 3.4 ارب ڈالر گئے اور 4.1 ارب ڈالر آئے۔ ہمارے پاس اب ڈالر کی آمد زیادہ اور اخراج کم ہے۔ پیٹرولیم منسٹری اور اوگرا نے اس وقت بھی سپلائی چین کو ٹوٹنے نہیں دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھے گی، بلکہ کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم میں ایک روپیہ بھی لیوی ٹیکس نہیں لگاؤں گا۔ کل رات پیٹرول پر 6 روپے 72 پیسے بڑھائے گئے ہیں۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول کا معاملہ آٹو میٹک ہے، یہ اوگرا سے آتا ہے۔ اوگرا ہر 15 دن کے لیے ایک قیمت کا تعین کرتی ہے۔ ہم نے تو ٹیکس بڑھایا نہ کم کیا، ہم نے یہ وزیراعظم کو بھیجا، جسے انہوں نے منظور کرلیا۔

متعلقہ خبریں