جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

میرے پاس تم ہو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ہے

میرے پاس تم ہو

عدنان صدیقی نے مقبول مگر متنازع ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ اور اپنی آنے والی فلم ’دم مستم‘ کے بارے میں کئی باتیں کیں اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں ہمایوں سعید کے ساتھ گزارے گئے وقت کو بھی یاد کیا

میرے پاس تم ہو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ہے۔ جہاں اسے عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی تو وہیں اس کے مصنف خلیل الرحمان قمر کے خواتین کے حوالے سے متنازع بیانات اور اس ڈرامے کے چند ڈائیلاگز کی وجہ سے یہ ڈرامہ تنقید کا نشانہ بھی بنا۔

مگر عدنان صدیقی کے نزدیک یہ ڈرامہ اتنا مقبول کیوں ہے؟ اس سوال پر وہ کہتے ہیں کہ ’اس کی مقبولیت کی وجہ اس کی لکھائی تھی، وہ ایک انداز جو جملوں کا ہوا کرتا تھا کسی زمانے میں، وہ لگتا تھا کہ واپس آ گیا ہے۔

عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ دوسری کامیابی اس کی یہ تھی کہ اس میں کردار کم تھے، کہانی صرف تین لوگوں کی تھی، بیچ میں ایک اور خاتون آتی ہیں جن کی کہانی شروع ہوجاتی ہے، اور اس کے بعد ہدایت کاری کمال کی تھی۔
عدنان کہتے ہیں کہ زندگی میں کبھی کبھار ایسے کام آتے ہیں جو آپ کو بھا جاتے ہیں، اور اُن سے زیادہ یہ لوگوں کو بھا گیا اور لوگوں نے اسے پسند کیا۔

‘اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کی کامیابی ہر شعبے میں رہی، چاہے لکھائی ہو، ہدایت کاری ہو، اداکاری ہو، لوکیشنز ہوں، اور پھر وہ موضوع ہی ایسا تھا کہ لوگوں کو پسند آیا۔’
جب ان سے اس ڈرامے کے مصنف خلیل الرحمان قمر کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے کے حوالے سے ہم نے سوال پوچھنا چاہا تو عدنان صدیقی نے کہا کہ بہتر یہ رہے گا کہ یہ سوال خود خلیل الرحمان قمر سے ہی پوچھ لیا جائے۔

ارطغرل غازی کے کردار ‘ابن العربی’ کی فیروز خان کیساتھ کام کرنے کی خواہش

ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے لاتعداد کردار ادا کیے ہیں مگر شہوار کا کردار سب سے زیادہ ہٹ ہونے والے کرداروں میں سے ہے جس کی شخصیت وغیرہ لوگوں کو بہت پسند آئی، تو عدنان صدیقی نے کہا کہ وہ اس کا کریڈٹ ندیم بیگ کو دیں گے۔
ندیم نے مجھے باقاعدہ کہا کہ اس میں سوٹ پہننے ہوں گے، اچھا دکھنا ہوگا، امیر نظر آنا ہوگا، تو میں نے ان سے کہا کہ بنوائیں کپڑے۔

‘اس پر انھوں نے کہا کہ نہیں نہیں، کپڑے بنوائیں گے تو مزا نہیں آئے گا، آپ اپنے کپڑے نکالیں، تو میں نے پورے ڈرامے میں اپنے ذاتی کپڑے پہنے ہیں۔’
عدنان صدیقی کہتے ہیں کہ وہ میک اپ نہیں کرتے لیکن انھیں میک اپ بھی کروا دیا گیا۔

‘میک اپ کیا تھا، ہلکا پھلکا پاؤڈر ہی لگا تھا، مگر سب سے زیادہ کام بالوں پر ہوا۔ بالوں پر کلر سے مجھے سخت الرجی ہوجاتی ہے، تو پھر مسکارا کے ذریعے بالوں کو سیاہ کرنا، اس میں بہت وقت لگتا تھا۔

جب ان سے سیٹ پر ہونے والے کسی دلچسپ واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے ایک منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا:

جلد ہی گلوکارہ حدیقہ کیانی اداکاری بھی کرتی دکھائی دیں گی

‘تھپڑ والا سین جو تھا اس میں، دانش آتا ہے، دروازہ بند کرتا ہے، میرے کولیگز بیٹھے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ یہاں بیٹھے رہو کوئی ہلے گا نہیں، اگر ہلا تو جان سے مار دوں گا۔ تو وہ بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ اب باہر جا کر یہ کچھ کہے گا نہیں کیونکہ اس کے ساتھ جو ہوا ہے۔ تو اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس کو ضرورت کیا ہے۔ تو اس کے بعد شہوار نے ان تین لڑکوں کو تو بالکل نہیں نکالا، جب دنیا کو پتا لگ گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تو تمہارے نہ بتانے یا بتانے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔

میں نے ایک اور بات کی تھی کہ مہوش کے لیے ایک تھپڑ ہی کیوں، دو بھی کھا لیتا، اس میں کیا بات ہے۔

 وہ کہتے ہیں کہ ان کا سب سے پہلا فلمایا گیا سین وہ تھا جس میں ‘دو ٹکے’ والی بات تھی۔
‘جب ہمایوں یہ ڈائیلاگ بول رہا تھا تو اس کی نوعیت مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ یہ بہت سخت ڈائیلاگ ہے۔ اب تو پڑھنا پڑے گا پورا سکرپٹ، ایسے تو مزا نہیں آئے گا۔ پہلے میں نے اپنے سین پڑھے تھے، پھر پورا سکرپٹ پڑھا۔ اس کے بعد سمجھ آیا کہ یہ بات ہے۔’
وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں سفر کر رہا ہوتا ہوں تو لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ مہوش نہیں آئیں آپ کے ساتھ؟ وہ کہتے ہیں کہ خاص طور پر ڈرامے کے دنوں میں تو یہ بات بہت کہی جاتی تھی، بالخصوص اگر وہ اسلام آباد جا رہے ہوتے۔ ‘میں انھیں کہتا کہ بھئی وہ شہوار کے ساتھ ہے اور میں عدنان ہوں۔
کچھ کردار اتنے مشہور ہوجاتے ہیں کہ ان کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ اس سے کم میں عوام خوش نہیں ہوتے، اس سوال پر عدنان صدیقی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی ایک ذمہ داری ہے اور ان کے کندھوں پر آ چکی ہے۔

سمجھ نہیں آ رہا کہ آگے کیا کام کیا جائے، ایک دو کام آفر بھی ہوئے ہیں مگر مزہ نہیں  رہا۔ معیار جب عوام بڑھا دیتے ہیں تو اس معیار کو برقرار رکھنا یا اس سے بہتر ہونا آسان کام نہیں ہے۔

ایسا ڈرامہ کوئی 10 سال میں آتا ہے، کچھ سال قبل ہمسفر آیا تھا، اس کے بھی آٹھ دس سال بعد تو آیا ہوگا یہ ڈرامہ۔ تو مجھے نہیں لگتا کہ اس نوعیت کا اس پائے کا کوئی ڈرامہ میں کر پاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں:عدنان صدیقی کی آواز میں ملی نغمہ سوشل میڈیا پر وائرل

وہ مذاقاً کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک سال سے کچھ نہیں کیا مگر کرنا تو ہے کیونکہ ‘تین بچے ہیں، گھر ہے، سب کو سنبھالنا ہے۔’

انھوں نے بتایا کہ انھیں ایک ‘مزیدار سا’ سیریل آفر ہوا ہے مگر انھوں نے ابھی اسے آگے پڑھ کر فیصلہ کرنا ہے۔
ہر چیز میں جدت آتی جا رہی ہے، ایکٹرز بھی بہت آ رہے ہیں، یعنی مقابلہ بھی بہت ہے۔ اب ہر کوئی تو اس چوٹی پر نہیں پہنچ سکتا۔ [تو اتنے سارے آپشنز میں سے اس دور میں رہتے ہوئے جو لوگ اپنا لوہا منوا رہے ہیں، انھیں سلام ہے۔

 

متعلقہ خبریں