جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اگر جاوید لطیف کو یہ ملک اچھا نہیں لگتا تو چھوڑ کر چلیں جائیں : لاہور ہائی کورٹ

چھوڑ کر چلیں

لاہور : عدالت نے کہا ہے کہ یہ کہاں کی پاکستانیت ہے؟ اگر جاوید لطیف کو یہ ملک اچھا نہیں لگتا تو ملک چھوڑ کر چلیں جائیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں لیگی رہنماء جاوید لطیف پر غداری کے مقدمے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے درخواست پر سماعت کی۔

جاوید لطیف کے وکیل کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ غداری کا جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم جاری کرے۔

یہ بھی پڑھیں : عبوری ضمانت 30 مارچ تک منظور، مریم نواز کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے : جاوید لطیف

لاہور ہائیکورٹ نے لیگی رہنماء جاوید لطیف پر غداری کے مقدمے کیخلاف درخواست واپس لینے کی بناء پر مسترد کردی۔

دوران سماعت چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ یہ ہماری حب الوطنی ہے یا حب الشخصیت ہے انہوں نے جو کہا کیا وہ ٹھیک ہے؟ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، اس ملک نے رہنا ہے۔ اگر ان کو یہ ملک اچھا نہیں لگتا تو ملک چھوڑ کر چلیں جائیں۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ میں پارلیمنٹیرین کے خلاف کوئی بات نہیں کہنا چاہتا۔ جائیں پولیس کے پاس اور اپنا مؤقف دیں، یہاں کیوں آگئے۔ یہ کہیں کہ پاکستان نہیں کھپے گا، ایک اور بنگلہ دیش بن جائے گا یہ کہاں کی پاکستانیت ہے؟

عدالت نے کہا کہ اس کالے کوٹ نے پاکستان بنایا اور آپ ایسے شخص کیلئے عدالت آگئے خود سوچیں۔ آپ کے پاس نیچے بہت سے راستے ہیں وہاں جائیں۔

متعلقہ خبریں