جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

آئی جی سندھ اب تو آزاد ہے، اب کیوں ایف آئی آر درج نہیں کراتے : شہزاد اکبر

آئی جی سندھ اب تو

اسلام آباد : شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ یہ کیسا آئی جی ہے جو اپنے اغواء کا مقدمہ درج نہیں کراتا۔ آئی جی سندھ اب تو آزاد ہے، اب کیوں ایف آئی آر درج نہیں کراتے۔

مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ تمام تر معاملے سے کچھ عناصر فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے مزار قائد پر قانون کی خلاف ورزی پر مقدمے کی درخواست دی۔ مقدمے کی درخواست کے بعد سندھ حکومت کا کردار شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ رات کو مقدمے کی درخواست ہوئی، صبح صفدر اعوان کو گرفتار کیا گیا۔ صفدر اعوان سندھ پولیس کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر نعرے لگارہے تھے۔ محمد زبیر ایک ثابت شدہ جھوٹے ہیں۔ مراد علی شاہ نے صحافیوں کو مبینہ اغواء سے متعلق سوال پوچھنے سے منع کیا۔

یہ بھی پڑھیں : بنارسی ٹھگوں کا ٹولہ صرف مریم نواز کیلئے چادر اور چار دیواری کی بات کرتا ہے : شبلی فراز

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے آئی جی کی چھٹیوں سے متعلق اعلامیہ ہٹاکر دوبارہ شائع کیا۔ سندھ حکومت بتائے کہ اچانک ان کا مؤقف کیوں بدل گیا؟ مراد علی شاہ کی میٹنگ ثبوت ہے کہ سندھ پولیس اپنے احکامات کہاں سے لیتی ہے۔ تمام ترمعاملے میں ہم نے سندھ حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

مشیر احتساب نے کہا کہ سندھ پولیس کا یہ کیسا عزم ہے جو 2 ماہ کی چھٹیوں کے بعد مضبوط ہوجاتا ہے۔ سندھ حکومت نے جاری اعلامیے میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری قانونی قرار دی۔ یہ کیسا آئی جی ہے جو اپنے اغواء کا مقدمہ درج نہیں کراتا۔ آئی جی سندھ اب تو آزاد ہے، اب کیوں ایف آئی آر درج نہیں کراتے۔

متعلقہ خبریں