جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ کے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اداروں کے خاتمے پر سنجیدہ سوالات

صدارتی آرڈیننس

اسلام آباد : ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اداروں کے خاتمے پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے 8 آرڈیننسز کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر سماعت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ صدر مملکت کو صرف جنگی حالات میں آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار ہے، جیسے کورونا وائرس کے حوالے سے معاملہ ابھی موجود ہے. ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹیل کونسل) کا نام لئے بغیر آرڈیننس کے ذریعے تحلیل کرنے کے حکومتی اقدام پر ریمارکس دیئے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو میئر اسلام آباد کے خلاف کارروائی سے روک دیا

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ریگولیٹری ادارے کو ختم کیا گیا، کیا حکومت آرڈیننس سے ہائی کورٹ کو بھی ختم کر سکتی ہے؟ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر سے سوال کیا کہ کیا ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنی ہائی کورٹ کو بھی آپ ختم کر سکتے ہیں؟

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 89 کے مطابق تو صدارتی آرڈیننس کی گنجائش صرف جنگ کی حالت میں ہے۔ آرڈیننس کے حوالے سے کیا ایگزیکٹو کو یہ اختیار نارمل حالات میں حاصل ہے؟

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بہت اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالتی معاونین بابر اعوان، رضا ربانی اور عابد منٹو سے بھی دلائل طلب کر لیے ہیں۔

متعلقہ خبریں