جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت آصف زرداری کو قتل کرنا چاہتے ہیں : بلاول بھٹو

آصف زرداری کو

اسلام آباد : بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو احساس نہیں کہ کورونا کتنا سنجیدہ مسئلہ ہے، وزیر اعظم اتنے بہادر ہیں کہ ہماری غیر موجودگی میں تقریر کرتے ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت آصف زرداری کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پریس کانفرنس میں کہا کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے بعد پولیس نے فوری ایکشن لے کر بڑی تباہی سے بچایا ہے۔ عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار رفیق سومرو نے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے پولیس کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج حملے کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ سندھ حکومت نے شہدا کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان سندھ پولیس اہلکاروں پر فخر کرتا ہے۔ پولیس اور رینجرز کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی ہے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کورونا کیسز اور ہلاکتیں کم ہورہی ہیں، یہ جھوٹ ہے۔ حکومت نے شروع دن سے کورونا سے نمٹنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

پنجاب کے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو رسک الاؤنس دیا جائے۔ وزیر اعظم کو احساس نہیں کہ کورونا کتنا سنجیدہ مسئلہ ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت نے تنخواہوں اور پینشنز میں اضافہ نہیں کیا۔ ڈاکٹروں، طبی عملے کا بھی تحفظ نہیں کیا گیا۔ پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، پہلے کبھی ایسے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کیا۔ وفاقی حکومت بہتری لانے کے بجائے معاملات مزید بگاڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر میدان میں مسائل پیدا کررہی ہے۔ بجٹ پاس ہونے سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا غیر قانونی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ پیٹرول بم گرا کر پاکستانیوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مافیاز نہیں، پی ٹی آئی حکومت کے فرنٹ مین ہیں۔ جب پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں تب بھی عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ وزیر اعظم کو چیلنج کیا تھا کہ ہمارے سامنے بیٹھ کر بات کریں اور جواب دیں۔ وزیر اعظم اتنے بہادر ہیں کہ ہماری غیر موجودگی میں تقریر کرتے ہیں۔ وزیر اعظم سے پارلیمنٹ اور ٹی وی پر مباحثہ کرنے کو تیار ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت غریبوں کا نام لے کر امیروں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ عمران خان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے وزیر اعظم ہیں۔ ہمیں ایک بالغ وزیراعظم کی ضرورت ہے، جو مسائل کا سامنا کرسکے۔ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بننے کو تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں تباہی ہوئی اس کے پیچھے کون تھا؟ وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا اس بیان پر وضاحت دیں،

آپ بینظیر بھٹو کو تو شہید نہیں کہہ سکتے مگر آپ اسامہ بن لادن کو شہید کہتے ہیں۔ آپ کا ضرب عضب، سوات آپریشن اور اے پی ایس سانحے پر کیا مؤقف ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہے، جس نے مودی کی الیکشن مہم چلائی اور پاکستان میں کشمیر پر اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم جس چیز کا نوٹس لیتے ہیں، وہ مزید مہنگی ہوجاتی ہے : بلاول بھٹو

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجٹ سے نظر آرہا ہے تعلیم، صحت، بے روزگاری ان کی ترجیح نہیں ہے۔ بجٹ پی ٹی آئی ایم ایف اور امیروں کا بجٹ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خورشید شاہ کو بغیر کسی الزام کے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ زرداری صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں لیکن نیب چاہتا ہے کہ وہ پیش ہوں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت آصف زرداری کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ پورا پاکستان جانتا ہے آصف زرادری کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان کے سب سے تاریخی منافق وزیر اعظم ہیں، جو آمرانہ سوچ رکھتا ہے، یہ لوگ ون یونٹ کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔ ہم 18 ویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پیپلز پارٹی اپنے نظریے سے نہیں ہٹے گی۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم این آر او نہیں چاہتے ہیں، عمران خان نے جتنے این آراو دیئے تاریخ میں کسی نے نہیں دیئے ہیں۔ عمران خان نے پہلا این آراو اپنی بہن کو دیا تھا، پرویز مشرف کی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرکے احساس پروگرام رکھ دیا ہے،

جن کو 12 ہزار روپے ملے ان سے پوچھیں بجلی کا کتنا بل آیا ہے۔ ایک ہاتھ سے پیسے دیئے دوسرے سے واپس لے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا اور ٹڈی دل معاملے پر حکومتی حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب پوچھتے ہیں کورونا کیسے کاٹتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب 2 سال سے قرنطینہ میں ہیں۔ وفاقی حکومت کی ناکامی کا بوجھ بھی پنجاب اٹھارہا ہے۔ وفاق کی طرف سے پنجاب کے ساتھ بھی ناانصافی ہورہی ہے۔ وفاقی حکومت کی ناکامی، پنجاب کے عوام کیوں اٹھائیں؟

ان کا کہنا تھا کہ کورونا، معیشت اور دیگر شعبوں میں حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ سندھ میں ہم نے مشکل صورت حال میں کامیابی حاصل کی۔ تحریک انصاف کی حکومت این آئی سی وی ڈی کے مقابلے میں کسی اسپتال کا نہ بتا سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پی آئی اے، پاکستان اسٹیل کو بیچ کر اپنے فرنٹ مینز کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ آڈیٹرجنرل کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں 270 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔

حکومت کی ہر پالیسی میں این آر او ہے۔ شوگر کمیشن بھی ایک این آر او تھا جو بزدار، ترین اور اسد عمر کو دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں