جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

عمران خان صاحب، گھبرانے کی اجازت دیجئے !

imran-khan-government-and-inflation-issue-urdu-blog
حکومت کو حکومت کرتے ہوئے تقریباً 3سال  ہوگئے ہیں۔ لیکن اس عرصے میں حکومت کی حکومت ویسے نظر نہیں آئی جیسے اس حکومت نے حکومت آنے سے پہلے  د عوی اور وعدے کئے تھے۔اجلاس پہ اجلاس جاری ہیں مگر پھر بھی مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔

 

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت کو بھی ان تمام معاملات کی خبر ہے مگر پھر بھی عمل میں کوتاہی ہے یا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف وقت گزاری ہے حکومت کی۔ اتفاق ہے کہ حکمت عمران خان جب مہنگائی کا نوٹس لیتے ہیں مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے۔

یہ پڑھیں : پاکستانیوں کا پسندیدہ موضوع

 

عجیب بات یہ پے کہ ہر بات کا ملبہ جو پہلے پرانی حکومتوں پر ڈالا جاتا تھا اب وہ دنیا میں بڑھتی مہنگائی پر ڈال دیا جاتا ہے اوراپنا دامن جھاڑ لیا جاتا ہے۔  ہر ہفتے دو ہفتے میں شاندار اجلاس ہوتے ہیں اور سب وزیر تیار شیار ہوکر پہنچتے ہیں۔ ماسک بھی لگا ہوتا ہے اس لئے چہرے کے تاثرات پوری طرح نظر نہیں آتے مگر آنکھوں میں تھکن اور کچھ کرنے کی تڑپ ضرور نظر آتی ہے۔

 

انھی چہروں کے ساتھ کانفرنس کرتے نظر آتے ہیں ، مگر مہنگائی کے بارے میں کچھ خاص نہیں بولتے کیونکہ مہنگائی” بلیک میلر” جو ہے۔ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ان تمام مہنگائی کے پیچھے سابقہ حکومتوں کا ہاتھ ہے اور وہ حکومتیں آجکل پی ڈی ایم بنائی بیٹھی ہیں تو ان پرانی حکومت یعنی پی ڈی ایم پر تبرا لازمی ہوتا ہے اور لوگوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ بھئی سب اچھا ہے اورمعاملات بہت بہتر ہیں۔

 

What is Imran Khan's real problem? - The Economic Times

 

حکومتی وزراء آتے ہیں اور تکرار کے ساتھ یہ چند جملے دھراتے ہیں؛وزیراعظم عمران خان نے بڑھتی مہنگائی کا سختی کےساتھ نوٹس لے لیا۔وزیر اعظم صاحب نے عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت دی ہے۔

 

حکومت عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے مکمل کوشاں ہے، روزمرہ اشیا کی قیمتیں کنٹرول کی جارہی ہیں، اس مہنگائی کی وجہ پرانی حکومتوں کی کارکردگی ہےاور فلاح ،ڈھمکا ، شمکا۔ یہ بیانات بلکل اسی طرح ہے جیسے بم دھماکے بعد مذمت کے بیانات اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل۔

 

یہ پڑھیں : بھوک کے خلاف جنگ

 

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستانی عوام کی بنیادی ضرورت اگر پوری نہیں ہوئی تو وہ بے تاب ہونگے اور بے تابی کا فائدہ پی ڈی ایم یعنی موجودہ اپوزیشن، پی پی پی اور گزشتہ حکومتوں والے لوگوں کو ہی ہوگا۔ پاکستانی عوام کا شعور بنیادی طور پر ابھی ترقی پذیر ہے، ترقی یافتہ نہیں۔

 

عوام ہماری ویسے ہی بھولنے کی عادی ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عمران خان سلیکٹڈ ہے یا خودجیتا ہوا ہے۔  مگر عوام کو اس بات سے ضرور فرق پڑے گا کہ میری سیلری میں جو گزارا پہلے ہوجاتا تھااب وہ نہیں ہوپاتا ہے۔ پہلے میرا کاروبار جیسا چلتا تھا ویسا اب نہیں چل رہا ہے۔ پہلے جو چینی مجھے آرام سے 60 ۔ 65 کی ملتی تھی اب وہ مجھے 80،90 کی بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے۔

 

PDM schedule for second phase of protest issued

 

حکومت اور پی ڈی ایم کے شیر دل اور چرب زبان عوام دوست لیڈران سے دست بستہ گزارش ہے کہ آپ لوگ روزانہ 10 نہیں 20 پریس کانفرنس کریں، سڑکوں پر احتجاج کریں، ایک دوسرے کو جو دل چاہے بولئے مگرخدارا عوام کے بارے میں سوچئے اور کچھ اقدامات کیجئے ۔

 

باتوں سے پیٹ نہیں بھرتا نہ ضرورتیں پوری ہوتیں ہیں ۔ پاکستانیوں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے اور اگر خرابی کودور نہ کیا گیا تو پھر آپ لوگوں کا ہی خانہ خراب ہونا ہے۔

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

[simple-author-box]

متعلقہ خبریں