جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب برقرار، نیا انتخاب 22 جولائی کو ہوگا: سپریم کورٹ

کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، عمران خان نے حمزہ شہباز کو دوبارہ انتخاب تک وزیر اعلیٰ تسلیم کرلیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز اور پرویز الہٰی کو ویڈیو لنک پر طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کتابوں پر توجہ دیں آئین کے مطابق حل بتائیں، یہ انا کا نہیں ملک و قوم کا مسئلہ ہے، ابھی کوئی حکم نہیں دے رہے، حمزہ شہباز اور پرویز الہٰی کے بیان کے بعد کیس کو آگے بڑھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پونے 4 بجے تک حمزہ شہباز اور پرویز الہٰی کو بلا لیں، حمزہ شہباز اور پرویز الہٰی کو سن کر حکم جاری کریں گے۔

جس کے بعد کیس کی سماعت میں پونے 4 بجے تک وقفہ ہوا اور سماعت دوبارہ شروع کی گئی، پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آئین کے تحت حکومت چلنا لازمی ہے، اگر ٹائم دیا جاتا ہے تو حکومت کون چلائے گا؟۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الہٰی سے کہا کہ آپکے وکیل نے کہا ضمنی الیکشن ہاؤس مکمل ہونے تک حمزہ پر اعتراض نہیں، جس پر پرویز الہٰی نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ان پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ملک کو مستقل طور پر اس طرح نہیں چھوڑا جا سکتا، آپ کا پرپوزل بھی ٹھیک ہے، لوگ اپنا ووٹ کاسٹ کریں، ضمنی الیکشن کے بعد جس کی اکثریت ہوگی وہ وزیر اعلیٰ بن جائے گا، اس غیر یقینی کا کسی فائدہ نہیں ہے۔

چودھری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن تک ہمارے ممبر حج سے واپس آجائیں گے، ہماری مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بھی ہو چکا ہوگا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا آپ کو یہ تجویز پسند ہے کہ ضمنی الیکشن تک حمزہ وزیر اعلیٰ رہیں، اگر قبول نہیں ہے تو آپکا بھی نقصان ہوگا انکا بھی نقصان ہوگا، جس پر پرویز الہٰی نے کہا کہ آپ حکم دیدیں، ہم دونوں بیٹھ کر معاملہ حل طے کر لیں۔

جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ آپ دونوں ساتھ بیٹھ جائیں، جمہوریت کا حسن بھی یہی ہوتا ہے۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل آئین اور قانون کے مطابق نکلے گا، عدالت چاہے تو ہائیکورٹ کے فیصلہ پر آج الیکشن کرا دے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اب آپ قانون کے مطابق وزیراعلیٰ نہیں ہیں، آپ کے 25 ووٹ گنتی سے نکل گئے ہیں، جس پر حمزہ شہباز نے کہا کہ حل تو یہی ہے کہ آج ہی ووٹنگ کرادی جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ پھر آپس میں طے کر لیں مناسب وقت کتنا ہوگا، حمزہ شہباز نے جواب میں کہا کہ عدالت فیصلہ کردے کہ ووٹنگ کیلئے مناسب وقت کتنا ہو، مناسب وقت کا فیصلہ عدالت بہتر کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ہمیں آپ دونوں کی خواہش کا پتہ چل گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ لیا جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارٹی لیڈر سے مشاورت کی اجازت مانگ لی۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی جس کے بعد بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ہدایت لی ہیں، عمران خان حکومت کی قانونی حیثیت سے متاثر ہوئے بغیر پنجاب میں شفاف الیکشن چاہتے ہیں، عمران خان چاہتے ہیں کہ آئی جی پنجاب، الیکشن کمیشنر، چیف سیکرٹری پنجاب قانون کے مطابق عمل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ نگران وزیر اعلی کوئی ایسا حکم یا ہدایت جاری نہیں کرے گا، نگران وزیر اعلی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے الیکشن متاثر ہو، کوئی بھی ترقیاتی فنڈز استعمال نہیں کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حمزہ شہباز کو دوبارہ انتخاب تک وزیر اعلیٰ تسلیم کرلیا ہے۔ ضمنی الیکشن، مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیر اعلیٰ قبول ہیں۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز نے 22 جولائی پر اتفاق کرلیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کل تک تحریری حکم جاری ہوجائے گا، حمزہ شہباز 22 جولائی تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہیں گے۔

متعلقہ خبریں