جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ان ہاؤس تبدیلی کا امکان ہے : خورشید شاہ

سکھر : سید خورشید شاہ نے کہا ہے ملکی معیشت سے اسد عمر واقف تھے پھر بھی عوام کو خواب دکھائے، دو بڑوں کی جنگ میں اسد عمر کو ہٹایا گیا، ہم نے لوگوں کو روزگار دیا اور انہوں نے نکال دیا، ان ہاوس تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید احمد شاہ کی سکھر میں رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسد عمر کو ملکی اکانومی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، ملکی معیشت کے حالات اور گردی قرضوں سے اسد عمر واقف تھے، اس کے باوجود بھی اسد عمر نے عوام کو جنت کے خواب دکھائے اوراقتدار میں آتے ہی رونا شروع کر دیا، ہم کہتے آرہے تھے ان پالیسیوں سے معاشی حالات خراب ہوں گے، ہمارا مذاق اڑایا گیا، در اصل دو بڑوں کی جنگ میں اسد عمر کو ہٹایا گیا، حفیظ شیخ پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ تھے، اس سے ثابت ہوا حکومت کو پیپلز پارٹی کی ضرورت پڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب حکمرانوں نے معاشی حالات خراب کردیئے تو وہاں آئی ایم ایف بھی اپنی شرائط رکھے گا، عمران خان نے چائنہ کے بزنس فورم میں اپنے ملک کی کرپشن کی باتیں کیں، ایسے حالات میں کون بزنس کرے گا، بجلی گیس کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ کیا گیا ہے تو اب ڈر ہے لوگ بجلی خریدنا نہ چھوڑ دیں، ہم نے این ایف سی پر کام کیا، صوبوں کو اختیارات دیئے، 80 لاکھ خواتین کو امداد کی مگر آج حالات یہ ہیں کہ ایک خاکروب کی نوکری بھی نہیں ہے، ہم نے لوگوں کو روزگار دیا اور انہوں نے نکال دیا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان سے مولانا فضل الرحمن کا استعیفی کا مطالبا صحیح ہے، ان ہاوس تبدیلی بھی ہوسکتی ہے، حالات کی بھتری صرف پارلیمنٹ میں ہے، عمران خان پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں، عمران خان کے ذھن میں آج بھی کنٹینر ہے، ہم نواز شریف کو بھی کہتے تھے کہ پارلیمنٹ میں آئیں مگر وہ نہیں آئے، نواز شریف نے بھی پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سیاستدان ہیں، ہمیں ناکامی تسلیم کرنی چاہیے، حکومتی ناکامی پر سیاست نہیں کریں گے، شہریار آفریدی پی ٹی آئی کا بنیادی کارکن ہے انہیں اعجاز شاہ کے کہنے پر ہٹا یا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں