جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

بھارت، بنگلہ دیش کی نسبت پاکستان میں مہنگائی کم ہے : شوکت ترین کا دعویٰ

بھارت، بنگلہ دیش کی نسبت

اسلام آباد : وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اب ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، آٹا، گھی، چینی، دالوں، پر کیش سبسڈی دیں گے، بھارت، بنگلہ دیش کی نسبت پاکستان میں مہنگائی کم ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر میں کورونا کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ترسیلی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ پروڈکشن کم اور ٹرانسپورٹیشن بھی بند ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ زراعت پر پچھلے 20 سال میں زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ ماضی میں زراعت کا شعبہ نظر انداز اور کسان متاثر ہوا۔ ہمیں زرعی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسان سے لے کر ریٹیلر تک قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں۔ پیاز، آلو، ٹماٹر خود استعمال اور برآمد بھی کر رہے ہیں۔ رواں ماہ سے ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے۔ آٹا، گھی، چینی، دالوں، پر کیش سبسڈی دیں گے،

اس سے قبل گیس اور بجلی پر ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے تھے۔ سبسڈی سے نچلے طبقے کے چالیس فیصد عوام استفادہ کریں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم وئیر ہاؤس اور فوڈ مال بنائیں گے۔ کسان کو خریدار سے براہ راست ملایا کر آڑھتی کا کردار ختم کریں گے۔ آئندہ چند دن تک آٹے کی قیمت میں کمی آئے گی، قیمتوں کا بڑھنا ایک بتدریج عمل ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ چند سال سے لوگوں کی آمدن نہیں بڑھی۔ آمدن بڑھا کر لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سی پیک فیز ون تکمیل کے مراحل میں ہے ، جلد معاشی ترقی نظر آئے گی: خالد منصور

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اسی ماہ کامیاب پاکستان پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی صحت کارڈ کا اجراء ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی وجہ سے ڈیبٹ سروسز پندرہ سو ارب سے 29 سو ارب روپے سالانہ پر چلا گیا۔ گزشتہ سال کا زیادہ تر بیرونی قرض زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے استعمال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا قرض 2018 میں جی ڈی پی کا 74 فیصد تھا۔ 2021  میں ہمارا قرض جی ڈی پی کا 81 فیصد ہے۔  اب ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ اس وقت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار 250 ارب کا منافع کما رہے ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش کی نسبت پاکستان میں مہنگائی کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے محصولات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ تین سال مین عالمی مارکیٹ میں پام آئل 621 ڈالر سے 1136 ڈالرز کا ہوگیا۔ تین سال میں چینی 303 ڈالر فی ٹن سے 410 ڈالر پر چلی گئی۔ گندم، کپاس، چاول کی سپورٹ پرائس بڑھانے سے پیداوار میں اضافہ ہو گا۔

شوکت ترین نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے معیشت پر بوجھ ہیں۔ نجکاری کمیشن کے ذریعے خسارے والے اداروں کے بورڈز تشکیل دے رہے ہیں۔

پی آئی اے، ریلوے، کیسکو، زیڈ ٹی بی ایل زیادہ خسارے والے ادارے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ روپے میں تجارت کی بات ہو رہی ہے۔ افعانستان کے فنڈز منجمد ہونے کی وجہ سے وہاں ڈالرز کی کمی ہو سکتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ڈالرز نہ ہونے سے افغانستان کو برآمدات ہی بند کر دیں۔

متعلقہ خبریں