جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

اسامہ ستی قتل کیس کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، دل دہلا دینے والے حقائق

رپورٹ

اسلام آباد: پولیس فائرنگ سے قتل ہونے والے طالبعلم اسامہ ستی کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں دل دہلا دینے والے حقائق بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مقتول کا کسی ڈکیتی سے تعلق نہیں تھا، گاڑی روکنے کے باوجود اہلکاروں نے اسے 22 گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

اسامہ ستی قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسامہ کے قتل کو چار گھنٹے خاندان سے چھپایا گیا جبکہ موقع پر موجود افسران نے وقوعہ چھپانے اور اسے ڈکیتی بنانے کی کوشش کی۔ مقتول کو ریسیکو کرنے والی گاڑی کو غلط لوکیشن بتائی جاتی رہی، موقع پر موجود افسر نے جائے وقوعہ کی کوئی تصویر نہیں لی۔

یہ بھی پڑھیں: اسامہ ستی کے قتل میں ملوث ملزمان کا پانچ روزہ ریمانڈ منظور

اسامہ ستی قتل کیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ کا کسی ڈکیتی یا جرم سے کوئی واسطہ ثابت نہیں ہوا۔ ڈیوٹی افسر نے غیر ذمہ دادی کا مظاہرہ کیا، اسامہ کو چار سے زائد اہلکاروں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گولیوں کے خول 72 گھنٹے بعد فرانزک کے لیے بھیجے گئے۔ اسامہ کی گاڑی پر 22 گولیاں فائر کی گئیں۔ اسامہ کی لاش کو پولیس نے سڑک پر رکھا جبکہ پولیس کنٹرول نے 1122 کو غلط ایڈریس بتایا۔

متعلقہ خبریں