جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

نور مقدم قتل کیس کا عبوری چالان جمع، ملزم کا اعتراف جرم، مقتولہ کا ریپ بھی ثابت

مقتولہ کا ریپ بھی

اسلام آباد : پولیس کے عبوری چالان کے مطابق ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے اعتراف کیا اور ڈی این اے رپورٹ سے مقتولہ کا ریپ بھی ثابت ہوگیا۔

اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پولیس کی جانب سے نور مقدم قتل کیس کا نامکمل عبوری چالان عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ ایف آئی اے سائبرک کرائم ونگ سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے متعلق رپورٹ آنے پر ضمنی چالان داخل ہو گا۔

عبوری چالان میں ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کا اعترافی بیان دیا، ڈی این اے رپورٹ سے مقتولہ کا ریپ بھی ثابت ہوگیا۔ ملزم ظاہر جعفر کے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے اعترافی بیان کو بھی چالان کا حصہ بنایا گیا ہے۔

پولیس کے عبوری چالان کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کر کے سر دھڑ سے الگ کرنے کا بیان دیا۔ ملزم ظاہر جعفر نے انکشاف کیا کہ نور مقدم نے شادی سے انکار کیا تو اسے زبردستی کمرے میں بند کر دیا۔ ملزم نے چوکیدار کو کہا گھر کو اندر نا کسی کو آنے دیں نا نور مقدم کو جانے دیں۔

یہ بھی پڑھیں : لاہور میں مبینہ پولیس مقابلہ، 36 مقدمات میں ملوث ڈاکو ہلاک

ملزم نے نور مقدم کو قتل کر کے اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیا اور اس کا موبائل دوسرے کمرے میں چھپا دیا۔ مقتولہ نور مقدم کا موبائل ملزم کی نشاندہی پر اسی کے گھر کی الماری سے برآمد کیا۔

ملزم کے مطابق اس نے والد کو قتل کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ والد نے کہا نے کہا ہمارے بندے آ رہے ہیں جو لاش ٹھکانے لگا کر اسے وہاں سے نکال لیں گے۔

اگر ذاکر جعفر بروقت پولیس کو اطلاع دیتا تو نور مقدم کا قتل بچ سکتا تھا۔ ظاہر ذاکر کے والد نے اس وقوعہ میں اپنے بیٹے کی مدد کی ہے۔

ملزم کے بیان کے مطابق تھراپی ورکس کے امجد محمود کے ساتھ غلط فہمی میں جھگڑا ہوا۔ تھراپی ورکس کے ملازمین نے ملزم کے اس فعل کو چھپانے اور شہادت ضائع کرنے کی کوشش کی۔ زخمی ملازم امجد نے وقوعہ کا اندراج بھی نہیں کرایا اور میڈیکل سلپ میں روڈ ایکسیڈنٹ درج کرایا۔

ڈی وی آر میں محفوظ شدہ ویڈیو اور فنگر پرنٹس بھی ملزم کے ہی ہیں۔ بارہ اگست کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم کا مقتولہ کے ساتھ ریپ کرنا ثابت ہے۔ نور مقدم واش روم سے چھلانگ لگا کر بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئی تو چوکیدار نے اسے سہولت نہیں دی۔

مالی جان محمد نے بھی اسے گیٹ نہیں کھولنے دیا، اگر کھولنے دیتا تو نور مقدم باہر جا سکتی تھی۔ ملزم نے 19 جولائی کو امریکا کی فلائٹ بک کرا رکھی تھی، لیکن سفر نہیں کیا۔ رپورٹس میں آیا ہے کہ مقتولہ میں زہر یا نشہ کے اثرات نہیں پائے گئے۔

ملزمان کے ڈی این اے، مقتولہ اور ملزم کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ کے رزلٹس ابھی آنا باقی ہیں۔ اس کیس میں بارہ ملزمان کے خلاف شہادت و ثبوت موجود ہیں ان کی حد تک چالان جمع کرایا گیا۔

متعلقہ خبریں