جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ایران نے یوکرینی طیارے کو مار گرانے کا اعتراف کرلیا

مار گرانے

تہران : ایران نے یوکرینی طیارے کوغیر ارادی طور پر مار گرانے کا اعتراف کرلیا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سوشل میڈیا پیغام میں واقعے کے خلاف ذمہ داروں سے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ طیارے کو ملٹری کی جانب سے مار گرانا انسانی غلطی تھی۔ ایرانی ملٹری نے امریکی جارحیت سے بچنے اور انسانی غلطی کے نتیجے میں طیارہ مار گرایا۔

ایرانی فوجی حکام کے مطابق امریکا کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں فوج انتہائی الرٹ تھی اور طیارہ مقررہ راستے سے ہٹ  کر پاسداران انقلاب کے حساس عسکری سینٹر کی طرف بڑھا، جس پر مخالف حدف سمجھ کرغلطی سے نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران میں یوکرائن کا مسافر طیارہ گر کر تباہ، 170 افراد ہلاک

ایران نے طیارے کو مار گرانے کے واقعے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے سسٹم کو مزید جدید کیا جائے گا۔ جہاز پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران امریکا کشیدگی کے دوران آٹھ جنوری کو یوکرین کا مسافر طیارہ ایران میں گر کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام ایک سو چھیتر افراد ہلاک ہوئے۔

طیارہ تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کفا جارہا تھا، جس میں بیاسی ایرانی اور تریسٹھ کینیڈین شہری بھی سوار تھے۔

ایرانی فوجی مرکز سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اس دن امریکی صدر اور دیگرعسکری حکام کی جانب سے ایران کو جواب کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

میزائل ڈیفنس سسٹم ہائی الرٹ تھا اور ریڈار پر ملکی سرحدوں کے قریب متعدد مشکوک حرکت و نقل دیکھی گئیں تھیں، تہران میں مسافر طیارے کو اپنے روٹ سے نکلنے اور حساس تنصیبات کے انتہائی نزدیک ہونے پر ہٹ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں