جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

11 اپریل سے چند معاشی سرگرمیاں بحال ہوجائیں گی، ایرانی صدر

ایرانی صدر

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے کم متاثرہ مشرق وسطیٰ کے ملک میں ’کم خدشات‘ کا شکار شعبوں کی معاشی سرگرمیاں کی 11 اپریل سے بحال ہوجائیں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جدو جہد کر رہا تاہم حکام کو تشویش ہے کہ عوامی زندگی کو محدود کرنے سے پہلے سے پابندی کا سامنا کرنے والے ملک کی معیشت تباہ ہوجائے گی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ ’وزارت صحت کی نگرانی میں تمام کم خدشات کا شکار شعبوں کی معاشی سرگرمیاں ہفتے کے روز سے بحال ہوجائیں گی جبکہ یہ سرگرمیاں تہران میں 18 اپریل سے بحال ہوں گی‘۔

ایرانی حکومت کے تقریباً دو تہائی ملازمین ہفتے کے روز سے دفتر کے باہر سے کام کریں گے اور یہ فیصلہ ملک کے محکمہ صحت کی جانب سے گھروں پر رہنے کی تجویز کے خلاف نہیں۔

امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے، امریکہ معاہدے کی پاسداری کرے : طالبان

حسن روحانی نے کم خدشات کا شکار شعبوں کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید وضاحت نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ خدشات والی سرگرمیاں‘، جیسے اسکول، یونیورسٹیاں اور متعدد سماجی و ثقافتی، کھیلوں اور مذہبی تقریبات 18 اپریل تک بند رہیں گی۔

وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 452 ہوگئی تھی جبکہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 55 ہزار 743 ہوگئی ہے۔

روزانہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر کم از کم 100 کیسز تک پہنچ چکی ہے۔

ایرانی حکام نے متعدد مرتبہ شکایت کی کہ ایرانی عوام گھروں پر رہنے اور 20 مارچ سے آغاز ہونے والی نئے سال کی چھٹیوں میں سفر نہ کرنے کی اپیل کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے محکمہ صحت نے ایران میں وائرس کی نئی لہر کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔

حسن روحانی کی حکومت نے شہروں کو لاک ڈاؤن کرنے سے گریز کیا ہے تاہم 8 اپریل تک سفر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

حسن روحانی نے اس پابندی میں 18 اپریل تک کی توسیع کردی ہے۔

متعلقہ خبریں