جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

عراق میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت، معیشت تباہ ہوگئی : وزیر اعظم

عراق

بغداد : عراق میں حکومت مخلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے، جس کے بعد دفاتر بند اور کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں، مظاہرین کی جانب سے ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

مظاہرین نے دارالحکومت کی شاہراہیں بھی بلاک کر دی گئیں، طلبہ کی بڑی تعداد بھی ان مظاہروں میں شریک ہوچکی ہے۔ انجینئرز، ڈاکٹروں اور وکلاء نے بھی مظاہروں کی حمایت کر دی ہے۔

بغداد سمیت دیگر شہروں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا لبنان کے مسائل کے حل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے : سربراہ حزب اللہ لبنان

مظاہرین نے سول نافرمانی کی نئی مہم شروع کرتے ہوئے تمام سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز کو بند کردیا ہے۔

عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی  کا کہنا ہے کہ  ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے  احتجاجی مظاہروں نے ملکی  معیشت کو تباہ کر دیا ہے، اب حالات زندگی معمول پر آنے چاہیے۔

عراقی وزیر اعظم کی جانب سے تحریری اعلان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے  اپنے اہداف کی اکثریت کو پا لیا ہے حکومت اپنے  امور اور پالیسیوں پر نظر ثانی  کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔  مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے والے بہت سارے فیصلے  لیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مظاہروں کی بنا پر ملک کو کروڑوں دینار کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے،  بہت سارے ممالک اور قومی و غیر ملکی ترقیاتی منصوبوں پر کام  کرنے والی فرمیں عراق کے حالات سے سخت بے چینی محسوس کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں