جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

پرائم منسٹر عمران خان سچ کہتے ہیں؛ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی ہے ، مگر !!

پرائم منسٹر عمران خان

پرائم منسٹر عمران خان نے چند پہلے قوم سے خطاب کیا ، امید تھی اس بار کا خطاب پچھلی بار سے مختلف نہ ہوگا اور وہ پوری طرح اس اُمید پر پورا اتریں ۔کیونکہ انھوں نے ایک جانب یہ تو بتایا کہ ہم 120 ارب روپے کا ریلیف پیکیج دینے جارہے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ بھئی پیٹرول کی قیمت بڑھانی پڑیں گی اور پھر سختی کے ساتھ عمران خان صاحب نے اپنے ارادے اور نیت کو عملی جامہ پہنایا اور جمعہ کی صبح ہوئی تو پاکستانیوں کو پتا چلا کے پیٹرول کی قیمت بڑھائی جاچکی ہے۔

 

اس بارے میں جانئے : عوام کو کچھ سمجھ نہیں آتا سوائے مہنگائی کے

 

سب سے پہلے تو عمران خان صاحب کے شاندار ریلیف پیکج کو سمجھتے ہیں کہ اس پیکج میں کتنا ریلیف ہے اور کتنا فریب ہے۔ اس شاندار پیکیج کے تحت مجموعی طور پر 120 ارب روپے ملک کے 13 کروڑ افراد کو دیئےجائیںگے۔

 

اب اگر اس رقم کو ماہانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے تو حکومت اگلے 6 ماہ تک ہر ماہ 20 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی اور اگر اس رقم کو 13 کروڑ افراد میں تقسیم کردیا جائے تو سبسڈی کی رقم 153 روپے اور چند پیسے فی کس ماہانہ بنتی ہے۔

 

اب اس رقم کو براہِ راست 13 کروڑ افراد میں تقسیم کرکے دیکھیں تو یہ رقم 923 روپے فی کس بنتی ہے۔ اگر اس فی کس رقم کو ڈالر کی موجودہ اوسط قدر 170 روپے سے تقسیم کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت آئندہ 6 ماہ کے دوران 13 کروڑ افراد کو فی کس 5 ڈالرچند سینٹس کے قریب دیگی۔

 

پرائم منسٹر عمران خان

بہرحال، وزیرِاعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں جو مہنگائی ہو رہی ہے اس کی وجہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہے، مان لیتے ہیں کہ اس وقت مہنگائی عالمی مسئلہ ہے۔جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمت خصوصاً کوئلے اور گیس کی قیمت میں اضافہ ہے۔

 

لیکن افراط زر کا سلسلہ تو آپ کی حکومت کے قیام کے بعد مسلسل جاری ہے اور بار بار آپ نے الگ الگ تاویلیں دی۔آپ نے شروع میں بولا کے مہنگائی سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے ہے ، پھر وہ وجہ مافیا بن گئی، پھر کورونا کے اوپر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی، پھر پتا چلا جو مہنگائی ہے وہ پوری دنیا میں ہے ہمارے ملک تو سستا ترین ہے،اور اب مہنگائی کی وجہ عالمی منڈی ہے۔ گویا 3 سال کے بعد بھی اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے کچھ نہ ملا تو مہنگائی کو عالمی مسئلہ ہی بنادیا۔

 

ایک جانب آپ ریلیف اور سبسڈی کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری جانب پیٹرول کی قیمتوں میں سونامی برپا کردیتے ہیں۔ یہ کونسا ریلیف ہے ؟ یہ کونسی سبسڈی ہے ؟ ایک جانب 120 ارب روپے کا پیکج کا اعلان ہے، اور دوسری جانب کئی سو ارب نکلوانے کا انتظام بھی کرلیا۔

 

آپ ایک جانب ریلیف کی بات کررہے ہیں اور دوسری جانب تکلیف دیتے جارہے ہیں اور ایسی تکلیف دے رہے ہیں کہ اگر پاکستانی چیخنے پر اتر آئے تو آپ کو کان پر ہاتھ رکھ کر بھاگنا ہوگا۔

 

یہ پڑھیں :  وہ جملے جو تکرار بن گئے 

 

مان لیجئے یہ حقیقت ہے کہ آپ سے ہو نہیں پارہا۔ آپ سے یہ عہدہ چلایا نہیں جارہا۔آپ نے حکومت سے پہلے میری ٹیم میری ٹیم کے جو فضائل بتائے تھے وہ اب عوام پر مصائب بن کر ٹوٹ رہے ہیں ۔

 

آپ کے بڑے بڑے دعوی زمین بوس اور سمندر برُد ہوچکیں ہیں مگر اب بھی آ پ کو لگتا ہے کہ آپ بہت اچھی طرح ملک کو چلارہے ہیں۔ عوام نے جتنا بھروسہ اور اعتماد آپ پر کیا تھا آپ نے اتنا ہی انھیں رسوا کیا ۔مختصر یہ کہ اگر” کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے ” !

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں